22 سال کی محنت، اکیلے شخص نے پہاڑ کا سینہ چیر دیا

22 سال کی محنت، اکیلے شخص نے پہاڑ کا سینہ چیر دیا

بھارت کی ریاست بہار کے ضلع گیا کے گاؤں گہلور سے تعلق رکھنے والے دشرتھ مانجھی کی زندگی محبت، عزم اور غیر معمولی حوصلے کی ایسی داستان ہے جسے آج بھی دنیا بھر میں یاد کیا جاتا ہے۔

دشرتھ مانجھی ایک غریب دنیا بھر تھے، تاہم اپنی اہلیہ کی موت کے بعد انہوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جسے سن کر لوگ انہیں دیوانہ سمجھنے لگے۔روایات کے مطابق 1959 میں ان کی اہلیہ فگنی دیوی پہاڑ عبور کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہوگئیں۔ گاؤں سے طبی امداد تک پہنچنے میں دشواری کے باعث انہیں بروقت علاج نہ مل سکا اور وہ جانبر نہ ہوسکیں

یہ بھی پڑھیں:قحط کے دوران 14 سالہ لڑکے نے کباڑ سے بجلی پیدا کرکے سب کو حیران کردیا

اہلیہ کی موت نے دشرتھ مانجھی کو اندر سے توڑ دیا، لیکن انہوں نے اسی غم کو ایک بڑے عزم میں تبدیل کردیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پہاڑ کو کاٹ کر ایسا راستہ بنائیں گے جس سے گاؤں کے لوگوں کو علاج اور دیگر ضروری سہولیات تک پہنچنے میں آسانی ہو۔

مانجھی نے صرف چھینی اور ہتھوڑے کی مدد سے پہاڑ کاٹنے کا کام شروع کردیا۔ لوگ انہیں پاگل کہتے، مذاق اڑاتے اور سمجھتے تھے کہ ایک شخص اکیلا پہاڑ کیسے کاٹ سکتا ہے، لیکن انہوں نے اپنا کام جاری رکھا۔

یہ بھی پڑھیں:اتنا بڑا بیگ آخر کس کام کا؟ شنیل کا عجیب و غریب فیشن تجربہ

تقریباً 22 سال تک مسلسل محنت کے بعد دشرتھ مانجھی نے پہاڑ کے درمیان سے راستہ بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ اس راستے نے گہلور اور قریبی علاقوں کے درمیان سفر کو نمایاں طور پر آسان کردیا۔

ان کی اس غیر معمولی جدوجہد نے انہیں ’ماؤنٹین مین‘ کے نام سے شہرت دلائی۔ بعدازاں ان کی زندگی پر بالی ووڈ فلم ’’مانجھی، دی ماؤنٹین مین‘‘ بھی بنائی گئی، جس میں نوازالدین صدیقی نے دشرتھ مانجھی کا مرکزی کردار ادا کیا۔ دشرتھ مانجھی کی کہانی آج بھی اس بات کی مثال سمجھی جاتی ہے کہ مضبوط ارادہ اور مسلسل محنت انسان کو بظاہر ناممکن نظر آنے والی رکاوٹوں سے لڑنے کا حوصلہ دے سکتی ہے۔

editor

Related Articles