ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایک بار پھر وقت آگیا ہے کہ پھر فوجی ایکشن کے ذریعے سفارتکاری کی تکمیل کی جائے اور وعدوں کی خلاف ورزی کا عملی ردعمل دیا جائے۔
باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر دباؤ بڑھانے سے امریکا وہ رعایتیں حاصل نہیں کرسکتا جو کبھی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حصہ ہی نہیں تھیں۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہیگسیتھ اور بیسنٹ اپنی اوقات سے بڑھ کر بات کر رہے ہیں، انہیں جاننا چاہیے کہ مسخروں کی ٹیم کرشمے نہیں دکھاسکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ انتظار بند کردیں کہ جادوگر ٹوپی سے خرگوش برآمد کرے گا اور اس بحران کو ختم کردے گا جو امریکا کا پیدا کردہ ہے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک بحری ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، تیل پر عائد پابندیاں اٹھائی نہیں جاتیں، ایران کے منجمد اثاثے جاری نہیں کیے جاتے اور اور فوجی آپریشنز بند نہیں ہوتے۔
قبل ازیں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل میجر جنرل محسن رضائی نے کہا تھا کہ جب تک امریکہ اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا اور ایران کی شرائط کو تسلیم نہیں کرتا، اس وقت تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو جنگ کا خاتمہ کرنا چاہیے اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کو بحال کرنا چاہیے جبکہ دیگر شرائط کے بارے میں امریکہ کو ثالثوں کے ذریعے آگاہ کر دیا گیا ہے۔