بلاول کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، پیپلز پارٹی کا پارلیمنٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ

بلاول کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، پیپلز پارٹی کا پارلیمنٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات میں پارلیمانی امور اور ملکی سیاسی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ پیپلز پارٹی نے پارلیمنٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اجلاس میں پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس کے حوالے سے حکمت عملی بھی طے کی گئی۔

بلاول بھٹو زرداری کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس کے حوالے سے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے ایوان کے اندر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں پارلیمانی امور اور ملکی سیاسی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سیکریٹری جنرل اسد قیصر، وائس چیئرمین مصطفیٰ نواز کھوکھر، قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر، رکن قومی اسمبلی عادل بازئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخوندزادہ حسین بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: وہ کونسا زہریلا مواد ہے جس نے ایک عام تحریک انصاف کے کارکن کو دہشتگرد بننے پر مجبور کیا؟ آزاد ڈیجیٹل حقائق سامنے لے آیا

بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، نوید قمر اور ندیم افضل چن بھی ملاقات میں شریک ہوئے۔

ملاقات کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن رہنماؤں سے پارلیمانی کمیٹیوں میں شامل ہو کر فعال کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ اس پر اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی چیئرمین سے مشاورت کے بعد اس معاملے پر فیصلہ کریں گے۔

پیپلز پارٹی اور اپوزیشن قائدین نے پارلیمنٹ میں قانون سازی سے متعلق معاملات پر باہمی رابطے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ انتخابی اصلاحات اور انتخابات میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کریں۔

ملاقات کے دوران سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں عمران خان کی اسپتال منتقلی اور علاج کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے ایک جمہوری روایت قرار دیا۔

Related Articles