مال روڈ راولپنڈی میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے محمد حسین سے متعلق سیاسی روابط، احتجاجی سرگرمیوں اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
آزاد ڈیجیٹل کی تحقیق میں سامنے آنے والی معلومات اور سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز کے مطابق محمد حسین تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیوں میں فعال طور پر شریک رہا اور پارٹی سے وابستہ متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ اس کے روابط تھے۔
پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں میں شرکت
دستیاب ریکارڈ کے مطابق محمد حسین نے تحریک انصاف کے مختلف جلسوں، ریلیوں اور احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی۔ اس کی سیاسی سرگرمیوں سے متعلق سوشل میڈیا پروفائلز، ویڈیوز اور دیگر مواد کو تحقیقات کا حصہ بنایا گیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں سے مبینہ رابطے
ذرائع کے مطابق محمد حسین کے تحریک انصاف سے وابستہ بعض اہم شخصیات سے ٹیلی فونک روابط بھی رہے۔ دستیاب کال ریکارڈ میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے 31 جنوری 2024 کو مبینہ رابطے کا ذکر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے ایک رکن قومی اسمبلی کے ساتھ بھی محمد حسین کے متعدد ٹیلی فونک رابطے رہے، جن میں آخری رابطہ مئی 2025 میں ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا اسمبلی کے ایک رکن اور انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن خیبر پختونخوا سے وابستہ ایک عہدیدار کے ساتھ بھی مبینہ طور پر متعدد رابطوں کا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق محمد حسین مختلف احتجاجی سرگرمیوں اور دھرنوں میں بھی موجود رہا۔ حکام اس کی سیاسی سرگرمیوں، احتجاجی اجتماعات میں شرکت، سوشل میڈیا پر موجود مواد اور مال روڈ فائرنگ کے واقعے میں مبینہ کردار کا باہمی تعلق جانچنے کے لیے ریکارڈ کا جائزہ لے رہے ہیں۔
سوشل میڈیا مواد کی چھان بین
ذرائع کے مطابق محمد حسین کے ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر موجود مواد بھی تحقیقات کا حصہ ہے۔ بعض ویڈیوز کی بنیاد پر اس کے سیاسی رجحانات اور بعض سیاسی و سماجی شخصیات سے متاثر ہونے کے پہلو کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
حکام دستیاب کال ریکارڈ، سوشل میڈیا مواد اور دیگر شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد محمد حسین کے مال روڈ فائرنگ واقعے میں مبینہ کردار اور اس سے متعلق دیگر پہلوؤں پر مزید تفصیلات سامنے آسکتی ہیں۔