خلیجی ممالک بالخصوص متحدہ عرب امارات کا فضائی سفر کرنے والے مسافروں کے لیے اہم خبر سامنے آگئی۔ نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی فضائی صنعت کو درپیش رکاوٹوں کے باعث متحدہ عرب امارات کے فضائی کرائے 2026 کے بیشتر عرصے میں بلند رہ سکتے ہیں۔
ٹورازم اکنامکس اور آکسفورڈ اکنامکس کی رپورٹ کے مطابق کی رپورٹ کے مطابق خلیجی فضائی حدود میں رکاوٹوں، ایئرلائنز کی محدود صلاحیت اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات ختم ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ مثبت صورتحال میں بھی عالمی فضائی کرائے 2026 کے دوران جنگ سے قبل کی توقعات کے مقابلے میں 5 سے 10 فیصد زیادہ رہنے کا امکان ہے جبکہ بحران طویل ہونے کی صورت میں کرایوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دبئی اور ابوظہبی دنیا کے اہم ترین فضائی رابطہ مراکز میں شامل ہیں۔ خلیجی حب ایئرپورٹس سے عالمی ٹرانزٹ ٹریفک کا تقریباً 14 فیصد گزرتا ہے جبکہ یورپ اور ایشیا کے درمیان تقریباً 20 فیصد سفری رابطے عموماً اسی خطے سے ہوتے ہیں۔
فضائی حدود میں پابندیوں کے باعث بعض ایئرلائنز کو طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں جس سے پروازوں کا دورانیہ اور ایندھن کی کھپت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پروازوں کی تعداد اور نشستوں کی دستیابی میں کمی بھی ٹکٹوں کی قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اثر بھی فضائی کرایوں پر پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ حالات میں بہتری آنا شروع ہوجائے تاہم مسافروں کو ٹکٹوں کی قیمتوں میں فوری کمی دیکھنے کو نہیں مل سکتی کیونکہ ایئرلائنز کی جانب سے ایندھن کی خریداری اور پروازوں کی بکنگ کئی ماہ پہلے کی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی ایوی ایشن پہلے ہی نمایاں طور پر متاثر ہوچکی ہے۔ IATA کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اپریل 2026 میں مشرقِ وسطیٰ سے آنے جانے والی بین الاقوامی فضائی نشستوں کی گنجائش گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد کم رہی جبکہ مسافروں کی طلب میں بھی تقریباً 50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کے باوجود خلیجی فضائی سفر معمول پر آنے میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ ایئرلائنز کو پروازوں کے شیڈول، روٹس اور دستیاب نشستوں کی گنجائش دوبارہ ترتیب دینا ہوگی۔
مسافروں کے لیے اہم بات یہ ہے کہ 2026 کے باقی مہینوں میں خلیجی ممالک کا سفر کرنے والوں کو ٹکٹ خریدتے وقت قیمتوں کا موازنہ، مختلف ایئرلائنز کے کرائے اور متبادل سفری تاریخیں ضرور دیکھنی چاہئیں، کیونکہ محدود نشستوں اور بلند آپریٹنگ اخراجات کے باعث بعض روٹس پر کرائے زیادہ رہ سکتے ہیں۔