اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال کے درمیان جنریشن زی کے بعض نوجوانوں نے ایک دلچسپ رجحان اپنانا شروع کردیا ہے۔ یہ نوجوان جدید اسمارٹ فونز چھوڑ کر دوبارہ سادہ موبائل فونز، جنہیں عام طور پر ڈم فونز کہا جاتا ہے، استعمال کررہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا کا دباؤ، اسکرین ٹائم کم کرنے کی خواہش اور ذہنی سکون کی تلاش اس رجحان کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ کئی نوجوان اسے ڈیجیٹل ڈی ٹاکس کا ایک طریقہ سمجھتے ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی کی 23 سالہ کینڈل شروہی بھی ایسے ہی نوجوانوں میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی فون چھوڑ کر فلپ فون استعمال کرنے کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ ایک بالکل مختلف اور زیادہ پرسکون دنیا میں آگئی ہوں۔
ڈم فون کیا ہوتا ہے؟
ڈم فون بنیادی طور پر ایسا موبائل فون ہوتا ہے جس میں اسمارٹ فون کی طرح سوشل میڈیا اور دیگر متعدد ایپس موجود نہیں ہوتیں۔ کچھ ڈم فونز صرف کال اور ٹیکسٹ میسج کی سہولت فراہم کرتے ہیں، جبکہ میں میپس، میوزک، میسجنگ اور ٹرانسپورٹ جیسی محدود سہولیات بھی موجود ہوتی ہیں۔ تاہم ان میں عام طور پر سوشل میڈیا ایپس تک رسائی نہیں ہوتی۔
کینڈل شروہی بھی ایسا فون استعمال کرتی ہیں جس میں اوبر، میپس اور اسپوٹی فائی جیسی سہولیات موجود ہیں، لیکن سوشل میڈیا ایپس شامل نہیں۔ کمپنی کے مطابق اس کے 5 ہزار سے زائد فعال صارفین ہیں اور عام صارف کی عمر تقریباً 24 سال ہے۔
نوجوان سوشل میڈیا سے دور کیوں ہورہے ہیں؟
ماہرین کے مطابق نوجوانوں میں سوشل میڈیا کا استعمال خاصا زیادہ ہے۔ امریکی نفسیاتی ایسوسی ایشن کے مطابق امریکا میں ایک نوجوان اوسطاً روزانہ تقریباً 5 گھنٹے سوشل میڈیا پر گزارتا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو کے ماہر اطفال اور محقق ڈاکٹر جیسن ناگاتا کے مطابق سوشل میڈیا کے استعمال کے بعض انداز نشہ آور رویوں سے مشابہ ہوسکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بعض ڈیزائن خصوصیات صارف کو زیادہ دیر تک پلیٹ فارم پر رکھنے کے لیے بنائی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں بعض افراد میں کنٹرول کھونے، بے چینی اور بار بار واپس جانے جیسے رویے پیدا ہوسکتے ہیں۔ ماہر کے مطابق سوشل میڈیا کا استعمال کم کرنے یا اسے ترک کرنے والے افراد طویل مدت میں بہتر نیند، زیادہ توجہ اور کم ذہنی دباؤ محسوس کرسکتے ہیں۔
کینڈل شروہی نے بتایا کہ وہ کئی برس تک سوشل میڈیا اور اسمارٹ فون کے استعمال کو کم کرنے کی کوشش کرتی رہیں، تاہم بالآخر انہوں نے ’منتھ آف لائن‘ نامی پروگرام کے ذریعے 30 دن کے لیے اسمارٹ فون چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا بذات خود لازماً نقصان دہ نہیں، لیکن پلیٹ فارمز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ صارف زیادہ سے زیادہ وقت وہاں گزارے۔ اسمارٹ فون سے دوری کے بعد انہیں احساس ہوا کہ وہ سوشل میڈیا کے بغیر زندگی کو زیادہ پسند کرتی ہیں۔
دوسری جانب مارچ میں ایک امریکی جیوری نے میٹا اور یوٹیوب کو نوجوان صارفین میں نقصان دہ اور نشہ آور رویوں کا باعث بننے والی مصنوعات تیار کرنے کے معاملے میں ذمہ دار قرار دیا تھا۔ یہ فیصلہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف مستقبل میں سامنے آنے والے مقدمات کے لیے ایک اہم قانونی مثال بن سکتا ہے۔
یوں جنریشن زی کے بعض نوجوانوں کا ڈم فونز کی طرف واپس جانا صرف ایک پرانا فون استعمال کرنے کا رجحان نہیں، بلکہ اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کے مسلسل استعمال سے وقفہ لینے کی ایک نئی کوشش کے طور پر سامنے آرہا ہے۔