اسلام آباد میں کسی بھی صورت چڑھائی نہیں ہونے دیں گے، طارق فضل چوہدری

اسلام آباد میں کسی بھی صورت چڑھائی نہیں ہونے دیں گے، طارق فضل چوہدری

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ حکومت اسلام آباد میں کسی بھی صورت چڑھائی نہیں ہونے دے گی۔

سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ 12 اضلاع میں صوبائی حکومت کی کسی قسم کی عمل داری نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کی دیکھ بھال کے لیے ہر ممکن بہترین اقدامات کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرریاں آئینی معاملہ ہیں، تاہم ان تقرریوں کے عمل میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی رکاوٹ ہیں۔

طارق فضل چودھری نے مزید دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر سے 2 مرتبہ رابطہ کیا، تاہم انہوں نے ملاقات سے انکار کردیا۔ اپوزیشن لیڈر اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے لاتعلقی او رسہولت کاری کے سوا کچھ نہیں کیا ،خواجہ آصف

دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر صوبے میں جاری دہشت گردی سے مکمل لاتعلقی اور مجرمانہ بے حسی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اب بہت ہوچکا، خیبر پختونخوا کے عوام کو مزید دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔

سخت ردعمل میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نام نہاد ناکام سیاسی لانگ مارچ میں مصروف ہے، جبکہ اسی دوران خیبر پختونخوا کے عوام کے خلاف دہشت گردی کی نئی لہر جاری ہے۔ 6 اکتوبر کو ڈی آئی خان میں دہشت گردوں نے ایک بار پھر 5 بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جن میں 2 کسٹم اہلکار بھی شامل تھے،بیان میں کہا گیا کہ اس سنگین واقعے سے صوبائی کابینہ، وزیراعلیٰ سمیت، مکمل طور پر بے حس نظر آئی اور وہ اپنے سیاسی طور پر ناکام لانگ مارچ میں مصروف رہی۔

سخت ردعمل میں کہا گیا کہ صوبائی حکومت نے ڈی آئی خان میں 5 بے گناہ افراد کے قتل کی بھی پہلے کی طرح کوئی مذمت نہیں کی، نہ سوگوار خاندانوں سے تعزیت کی گئی اور نہ ہی ان کے جنازوں میں شرکت کی گئی۔ حتیٰ کہ دکھ اور افسوس کے اظہار کے لیے متاثرہ خاندانوں کے گھروں تک جانے کی زحمت بھی نہیں کی گئی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے برعکس وزیراعلیٰ نے رات گئے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو گورنر کی سکیورٹی میٹنگ میں شرکت کرنے پر سرزنش کرنے کے لیے اجلاس طلب کر رکھا ہے۔

Related Articles