طالبان رجیم کے تاریک دور میں افغان خواتین کیخلاف صنفی امتیاز کو ریاستی پالیسی بنادیا گیا، عالمی جریدہ”دی گارڈین” نے طالبان رجیم کی افغان خواتین کیخلاف یک طرفہ اور سخت گیر پالیسیوں کو آشکار کردیا۔
دی گارڈین کے مطابق طالبان رجیم نے افغان خواتین سے سب کچھ چھین کر ایسا نظام رائج کردیا ہے جس میں نصف آبادی غلام بن چکی ہے ، افغان خواتین پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کیلئے طالبان رجیم قوانین کو مرضی کے مطابق بدلتے اور استعمال کرتی ہے۔
عالمی جریدے کے مطابق افغان طالبان رجیم نے کم عمری کی شادی اور گھریلو تشدد کو جائز قرار دیا جبکہ خواتین کے طلاق کا حق بھی محدود کر دیا، دنیا کے برعکس افغانستان میں 80 فیصد خودکشی کے واقعات اور کوششیں خواتین سے متعلق ہیں۔
افغان تحقیقاتی ادارے”زن ٹائمز”نے خواتین کے قتل کی تشویشناک صورتحال کا انکشاف کیا کہ افغانستان میں خواتین کے قاتلوں کو کھلی چھوٹ حاصل ہے، جہاں ریاستی سرپرستی میں ملزمان سزا سے بچ جاتے ہیں ۔