افغانستان میں غیرقانونی پابندیوں کے سبب خواتین خودکشی پر مجبور! عالمی جریدے نے طالبان رجیم کی سخت گیر پالیسیاں آشکارکردیں

افغانستان میں غیرقانونی پابندیوں کے سبب خواتین خودکشی پر مجبور! عالمی جریدے نے طالبان رجیم کی سخت گیر پالیسیاں آشکارکردیں

طالبان رجیم کے تاریک دور میں افغان خواتین کیخلاف صنفی امتیاز کو ریاستی پالیسی بنادیا گیا، عالمی جریدہ”دی گارڈین” نے طالبان رجیم کی افغان خواتین کیخلاف یک طرفہ اور سخت گیر پالیسیوں کو آشکار کردیا۔

دی گارڈین کے مطابق طالبان رجیم نے افغان خواتین سے سب کچھ چھین کر ایسا نظام رائج کردیا ہے جس میں نصف آبادی غلام بن چکی ہے ، افغان خواتین پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کیلئے طالبان رجیم قوانین کو مرضی کے مطابق بدلتے اور استعمال کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :افغانستان، بھارت مذموم گٹھ جوڑ، پاکستان کیخلاف افغان طالبان کو دی گئی بھارتی ناقص ٹیکنالوجی بھی ناکام

عالمی جریدے کے مطابق افغان طالبان رجیم نے کم عمری کی شادی اور گھریلو تشدد کو جائز قرار دیا جبکہ خواتین کے طلاق کا حق بھی محدود کر دیا، دنیا کے برعکس افغانستان میں 80 فیصد خودکشی کے واقعات اور کوششیں خواتین سے متعلق ہیں۔

افغان تحقیقاتی ادارے”زن ٹائمز”نے خواتین کے قتل کی تشویشناک صورتحال کا انکشاف کیا کہ افغانستان میں خواتین کے قاتلوں کو کھلی چھوٹ حاصل ہے، جہاں ریاستی سرپرستی میں ملزمان سزا سے بچ جاتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں : دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی اور انسانی حقوق کی پامالی، افغان طالبان رجیم کا سفاک چہرہ بے نقاب

عالمی جرائد کی افغانستان سے متعلق رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ طالبان رجیم میں افغان سرزمین خواتین کیلئے غیر محفوظ اور ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔

editor

Related Articles