واٹس ایپ بھول جائیں، نئی میسجنگ ایپ لانچ، نوجوانوں میں تیزی سے مقبول

واٹس ایپ بھول جائیں، نئی میسجنگ ایپ لانچ، نوجوانوں میں تیزی سے مقبول

تیز رفتار ڈیجیٹل دنیا میں، جہاں پیغامات چند سیکنڈز میں منتقل ہو جاتے ہیں، رُوسٹ نامی ایک نئی میسجنگ ایپ نے سست رفتار رابطے کا منفرد تصور پیش کر کے نوجوانوں کو سحر انگیز کر دیا ہے۔

اپریل میں آئی او ایس اور اینڈرائیڈ پر متعارف کروائی گئی اس ایپ کے صارفین کی تعداد 18 اگست تک 7 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ فاسٹ لائف سے بیزار نوجوان فوری جواب کے بجائے انتظار اور پرسکون تجربے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

رُوسٹ ایپ صارف کو یہ سہولت دیتی ہے کہ وہ اپنے پیغام کی ترسیل کے لیے اپنی پسند کے کسی پرندے یا جانور کا انتخاب کرے۔

پیغام کی وصولی فوراً نہیں ہوتی بلکہ منتخب کردہ جانور کی حقیقی رفتار اور فاصلے کے مطابق پیغام کو منزل تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:واٹس ایپ کا بڑا اپڈیٹ، تصاویر ایڈٹ کرنا ہوگا مزید آسان

اس کا مطلب ہے کہ پیغام کا انتظار بذاتِ خود ایک منفرد اور جذباتی تجربہ بن جاتا ہے۔ صارف اپنے بھیجے گئے ورچوئل پرندے کا سفر نقشے پر دیکھ بھی سکتا ہے، جو رابطے کے احساس کو مزید دلکش بنا دیتا ہے۔

ایپ کے خالق لوگن مینڈلسون کا کہنا ہے کہ اس بنیادی نظریے کا مقصد ہر وقت آن لائن رہنے، فوراً جواب دینے کے دباؤ اور ہائپر کنیکٹیویٹی کے ماحول کو کم کرنا ہے۔

اپریل میں لانچ ہونے کے بعد، مختصر عرصے میں اس نے دنیا بھر میں زبردست مقبولیت حاصل کی، جس کی بڑی وجہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے مثبت تبصرے بھی بنے۔

صبر، سکون اور جدید طرز زندگی کا سست ترسیلی رجحان

ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق، رُوسٹ کی حیران کن مقبولیت کو نوجوانوں میں ٹیکنالوجی سے وقفہ لینے اور سست رفتار طرزِ زندگی (سلو لیونگ) اختیار کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان سے جوڑا جا رہا ہے۔

مسلسل سکرولنگ اور ڈیجیٹل تھکاوٹ کا شکار نوجوان اب سادہ موبائل فونز استعمال کرنے، فون سے پاک تقریبات میں شرکت کرنے اور سکرین کے بغیر سرگرمیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔

یہ ایپ اسی نفسیات کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی ہے۔ یہاں نوٹیفکیشنز کے طوفان اور ’ریڈ رسیپٹس‘ کی جلدی کے بجائے صبر اور انتطار کو سراہا جاتا ہے۔ پیغام بھیجنے کا عمل محض ایک تکنیکی ضرورت نہیں رہتا بلکہ ایک پرسکون اور یادگار ڈیجیٹل واقعہ بن جاتا ہے۔

ایک جیسے خیالات کا منفرد اتفاق

دلچسپ بات یہ ہے کہ رُوسٹ اس میدان میں اکیلی ایپ نہیں ہے۔ رواں سال اپریل ہی میں سافٹ ویئر ڈویلپر نوح ایروبینو نے بھی ’کیریئر پِج‘ نامی ایک بالکل ملتی جلتی ایپ متعارف کرائی، جس میں ورچوئل کبوتروں کے ذریعے پیغام رسانی کا تصور دیا گیا۔

مزید پڑھیں:ایپل کے ڈیٹا قوانین میں بڑی تبدیلی،جرمنی میں کئی سالہ تحقیقات ختم

حیرت انگیز طور پر دونوں ایپس کے تخلیق کاروں نے ایک دوسرے کے منصوبے اور خیال سے مکمل لاعلم رہتے ہوئے اپنے اپنے آئیڈیاز پر کام کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل دنیا اب ایک نیا رخ اختیار کر رہی ہے۔

کیا سست رفتار ایپس ڈیجیٹل انقلاب کا نیا موڑ ہیں؟

ٹیکنالوجی کی دنیا میں گزشتہ دو دہائیوں سے رفتار، رفتار اور صرف رفتار پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ واٹس ایپ، انسٹاگرام اور سنپ چیٹ جیسے پلیٹ فارمز نے نوٹیفکیشنز کو فوری ترین بنا کر انسان کو ایک لاشعوری دباؤ اور بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے۔

رُوسٹ اور کیریئر پِج جیسی ایپس کی کامیابی اس بات کی علامت ہے کہ نوجوان نسل اب ڈیجیٹل ذہنی سکون کی طالب ہے۔

یہ ایپس صرف پیغام رسانی کے ذرائع نہیں ہیں بلکہ یہ ’نوٹیفکیشن کی غلامی‘ کے خلاف ایک خاموش احتجاج ہیں۔ جب پیغام پہنچنے میں وقت لگتا ہے، تو انسان فون سے دور ہو کر حقیقی زندگی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

تاہم، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ رجحان ایک عارضی فیشن ہے یا مستقل تبدیلی؟ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ تیز رفتار ایپس کاروباری اور ہنگامی کاموں کے لیے لازمی رہیں گی، لیکن ذاتی رابطوں میں سکون اور جذبات کی بحالی کے لیے ایسی ’سست ایپس‘ مستقبل میں اپنا ایک الگ اور مستحکم مقام بنانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:ایپل کا 110 ممالک میں آئی فون صارفین کو خطرناک سیکیورٹی الرٹ

تاریخی طور پر انسان خطوط اور پرندوں کے ذریعے رابطے کا عادی رہا ہے، جہاں ہر پیغام کے جواب میں دنوں یا ہفتوں کا وقت لگتا تھا اور لوگ اشتیاق سے انتظار کرتے تھے۔

20 ویں صدی کے اختتام اور 21 صدی کے آغاز میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور سمارٹ فونز نے اس انتطار کو ختم کر کے ڈیجیٹل انضمام پیدا کر دیا۔

تاہم بے تحاشا ٹیکنالوجی کے استعمال نے نوٹیفکیشن اینگزائٹی اور برن آؤٹ جیسے مسائل کو جنم دیا۔ رُوسٹ اور اس جیسی ایپس کی آمد دراصل انسان کی اسی پرانی دنیا کی طرف جذباتی واپسی کا ایک جدید ڈیجیٹل روپ ہے، جو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ قدیم پرسکون دور کی یاد تازہ کرتی ہے۔

Related Articles