چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز جاری ہیں ، ان کھیلوں کے پہلے ہی دن ایک چینی روبوٹ نے 100 میٹر کا فاصلہ اتنی تیزی سے طے کیا کہ دنیا کے سب سے تیز رفتار انسان جمیکا کے یوسین بولٹ کا ریکارڈ بھی توڑ ڈالا۔
یوسین بولٹ نے 2009 میں یہ فاصلہ 9.58 سیکنڈ میں طے کیا تھا لیکن اب ایک چینی روبوٹ نے یہ فاصلہ صرف 9.39 سیکنڈ میں پورا کر کے سب کودنگ کر دیا۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ مقابلہ ہفتے کے روز بیجنگ میں ہونے والے روبوٹ گیمز کے دوسرے ایڈیشن کے پہلے دن ہوا، اس مقابلے میں تیان گونگ الٹرا نامی روبوٹ نے حصہ لیا جسے بیجنگ ہیومنائڈ روبوٹ انوویشن سینٹر نے تیار کیا ہے اور اس نے اپنی ابتدائی دوڑ جیت لی۔
دوڑ کے دوران شروع میں یہ روبوٹ پیچھے رہ گیا لیکن آخر میں اس نے موبائل بنانے والی کمپنی آنر کے تیار کردہ روبوٹ لائٹننگ کو پیچھے چھوڑ دیا ، لائٹننگ نامی روبوٹ نے یہ فاصلہ 9.47 سیکنڈ میں طے کیا جو انسانی ریکارڈ سے کہیں زیادہ بہتر تھا۔
معروف ایتھلیٹ یوسین بولٹ کا ریکارڈ
دنیا کے معروف ایتھلیٹ یوسین بولٹ نے 2009 میں برلن میں ہونے والی ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں 100 میٹر کا فاصلہ 9.58 سیکنڈ میں طے کیا تھا، یہ ریکارڈ کئی سال سے انسانی ایتھلیٹکس میں قائم ہے۔ چینی روبوٹ نے 9.39 سیکنڈ کا وقت نکال کر اس سے 0.19 سیکنڈ کم وقت میں دوڑ مکمل کی۔
تاہم دونوں روبوٹس کی دوڑ کا اختتام کسی انسانی ایتھلیٹ کی طرح پرسکون انداز میں نہیں ہوا، یہ روبوٹ بہت تیز دوڑے لیکن ان کے پاس انسانوں جیسی خوبصورت چال نہیں تھی ، دوڑ ختم ہونے کے بعد یہ دونوں روبوٹ خود کو روک نہ سکے اور رفتار روکنے کے لیے بنائے گئے موٹے حفاظتی ٹریک سے جا ٹکرائے۔
تیان گونگ کا توازن بگڑ گیا اور وہ سائیڈ پر جا گرا جس کی وجہ سے وہاں موجود تماشائیوں کو جلدی سے ہٹنا پڑا ، دوسرا روبوٹ لائٹننگ تو زمین پر گرنے کے بعد اتنا خراب ہوا کہ اسے اسٹریچر پر اٹھا کر لے جانا پڑا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پچھلے سال ہونے والے پہلے ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز میں تیان گونگ الٹرا نے 100 میٹر کی دوڑ 21.50 سیکنڈ میں جیتی تھی، اس سال اس نے اپنا وقت تقریباً آدھا کر دیا ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صرف ایک سال کے دوران روبوٹ کی دوڑنے کی صلاحیت میں بہت نمایاں بہتری آئی ہے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق لائٹننگ نے مقابلے سے پہلے ایک تیاری کی دوڑ میں 100 میٹر کا فاصلہ 9.32 سیکنڈ میں بھی مکمل کیا تھا، اس دوران اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 14.5 میٹر فی سیکنڈ ریکارڈ کی گئی۔
لائٹننگ پہلے ہی رواں سال بیجنگ میں ہونے والی ہیومنائیڈ روبوٹ ہاف میراتھن بھی جیت چکا ہے، اس نے 21.1 کلومیٹر کی یہ دوڑ 50 منٹ 26 سیکنڈ میں مکمل کی، جو انسانی دنیا کے بہترین مرد ایتھلیٹس کی رفتار کے مقابلے میں بھی غیر معمولی کارکردگی ہے۔
لائٹننگ کا قد ہاف میراتھن کے وقت 169 سینٹی میٹر تھا جبکہ اس کی ٹانگوں کی لمبائی 95 سینٹی میٹر تھی۔ مقابلے سے پہلے اس کی ٹانگوں کو مزید 10 سینٹی میٹر لمبا کیا گیا، جس کے بعد ان کی لمبائی 1.05 میٹر ہو گئی۔
بیجنگ میں ہونے والے اس روبوٹ مقابلے میں صرف دوڑ ہی شامل نہیں بلکہ مجموعی طور پر 51 مختلف مقابلے رکھے گئے ہیں، جن میں فٹ بال، رقص اور صنعتی کاموں سے متعلق مقابلے بھی شامل ہیں۔
اس سال کے مقابلوں میں دنیا بھر سے 666 ٹیموں کے 2 ہزار 56 روبوٹ شریک ہیں ، یہ روبوٹ 16 ممالک اور چھ براعظموں سے آئے ہیں، گزشتہ سال پہلے مقابلے میں صرف 280 ٹیموں نے حصہ لیا تھا، جس سے اس ٹیکنالوجی میں عالمی دلچسپی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
روبوٹ ٹیکنالوجی میں بڑھتی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ چین کی معروف ہیومنائیڈ روبوٹ کمپنی ’یونٹری‘ کے حصص رواں ہفتے شنگھائی میں کاروبار کے پہلے دن پانچ گنا سے بھی زیادہ بڑھ گئے، جس کے بعد کمپنی کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 50 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
چین ہیومنائیڈ روبوٹس کو مستقبل کی اہم ٹیکنالوجی سمجھتا ہے، چینی حکومت اور مختلف کمپنیاں مصنوعی ذہانت اور جدید ہارڈویئر کی مدد سے ایسے روبوٹس تیار کرنے پر زور دے رہی ہیں جنہیں مستقبل میں فیکٹریوں، سامان کی ترسیل اور عام صارفین کے مختلف کاموں میں استعمال کیا جا سکے۔
بیجنگ کے نیشنل اسپیڈ اسکیٹنگ اوول میں جاری ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز بدھ تک جاری رہیں گے ، ان مقابلوں کے نتائج نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ مستقبل میں انسان اور مشین کے درمیان رفتار اور جسمانی صلاحیتوں کی مسابقت کس حد تک بدل سکتی ہے۔