عالمی سطح پر مودی سرکار کا مجرمانہ نیٹ ورک بے نقاب، امریکا اور کینیڈا کا مشترکہ ایکشن، سہولتکار گرفتار

عالمی سطح پر مودی سرکار کا مجرمانہ نیٹ ورک بے نقاب، امریکا اور کینیڈا کا مشترکہ ایکشن، سہولتکار گرفتار

امریکا اور کینیڈا کے سیکیورٹی اداروں نے مشترکہ و مؤثر کارروائی کرتے ہوئے عالمی سطح پر فعال بھارتی مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے۔

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق بھارتی ریاست گجرات کے 21 سالہ شہری کو کروڑوں ڈالرز کے فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں کینیڈا سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مودی حکومت کی مبینہ سرپرستی اور کھلی چھوٹ کے باعث بھارتی جرائم پیشہ گروہ اب دنیا بھر کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

فراڈ، منی لانڈرنگ اور کینیڈا سے فرار کی کہانی

امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق گرفتار 21 سالہ بھارتی ملزم ایک بین الاقوامی جعلساز گروہ کے مالی سہولت کار کے طور پر کام کر رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:مودی سرکار کو سفارتی دھچکا ،بنگلہ دیشی وزیراعظم کا شیخ حسینہ کی حوالگی تک بھارت جانے سے انکار

اس منظم گروہ نے فراڈ کے ذریعے 59 سے 87 سال تک کی عمر کے معمر امریکی شہریوں کو ہدف بنایا اور ان سے تقریباً 7.5 ملین (ساڑھے 7) ڈالر ہتھیا لیے۔

بھارتی جریدے ’فرسٹ پوسٹ‘ کے مطابق، بھارتی نژاد ملزم پر جب امریکی عدالت میں فردِ جرم عائد کی گئی تو وہ چکمہ دے کر کینیڈا فرار ہو گیا۔

تاہم امریکی حکام کی باضابطہ درخواست پر کینیڈین سیکیورٹی اداروں نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ملزم کو کینیڈا سے گرفتار کر لیا۔ یہ گرفتاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں ممالک اب بھارتی گینگسٹرز کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنا چکے ہیں۔

ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور تشدد میں ملوث بھارتی تنظیمیں

اسی سلسلے میں امریکی اٹارنی بل ایسلی کا ایک اہم اور سنسنی خیز بیان بھی سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارت میں قائم اور وہاں سے چلنے والی جرائم پیشہ تنظیمیں محض مالیاتی فراڈ تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ گینگسٹرز بڑے پیمانے پر ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور تشدد کی دیگر سنگین وارداتوں میں براہِ راست ملوث ہیں۔

سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بھارتی نیٹ ورکس کے تانے بانے اکثر بھارتی سرحدوں کے اندر بیٹھے بااثر عناصر سے ملتے ہیں، جو ان مجرموں کو محفوظ پناہ گاہیں اور مالی وسائل فراہم کرتے ہیں۔

امریکی ویزا پابندیوں کا درست فیصلہ

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، بھارتی شہریوں اور مجرمانہ عناصر کی ان مسلسل گرفتاریوں نے امریکا کی جانب سے بھارتی شہریوں پر عائد کی جانے والی سخت ویزا پابندیوں کے فیصلے کو بالکل درست اور بر وقت ثابت کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں:گودی میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈے کا عبرتناک انجام، دہلی کی سڑکوں پر کٹھ پتلی صحافیوں کی درگت اور مودی سرکار کی کھلی ہزیمت

امریکی سیکیورٹی اداروں کا ماننا ہے کہ اگر ان گینگسٹرز اور جعل سازوں کی بروقت روک تھام نہ کی گئی تو یہ مغربی ممالک کی داخلی سلامتی اور معاشی نظام کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب سرحد پار کارروائیوں اور ملزمان کی تحویل کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔

کیا بھارتی نیٹ ورکس عالمی سفارتکاری کے لیے نیا بحران ہیں؟

حالیہ کچھ عرصے کے دوران امریکا، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک میں بھارتی نژاد گینگسٹرز کی بڑھتی ہوئی مجرمانہ سرگرمیاں کوئی معمولی واقعہ نہیں ہیں۔

 کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کے قتل کی سازشوں سے لے کر امریکا میں معمر شہریوں سے کروڑوں ڈالرز کے فراڈ تک، ان تمام تاروں کا سِرا بھارت سے جا ملنا مودی حکومت کی داخلہ اور خارجہ پالیسی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت جس طرح عالمی سطح پر خود کو ایک ذمہ دار جمہوری ملک کے طور پر پیش کرتا ہے، یہ حقائق اس کے بالکل برعکس کہانی سناتے ہیں۔

اگر مودی سرکار نے اپنے ملک سے آپریشنل ہونے والے ان نیٹ ورکس اور گینگسٹرز کا قلع قمع نہ کیا، تو بھارت کو نہ صرف ویزا پالیسیوں میں مزید سختی کا سامنا کرنا پڑے گا، بلکہ بین الاقوامی سطح پر شدید سفارتی تنہائی اور بدنامی کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں:آئی ایس پی آر کے زیرِ اہتمام نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ، سیکیورٹی ماہرین کے مودی سرکار اور آر ایس ایس  سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات

گزشتہ چند سالوں کے دوران کینیڈا اور امریکا میں بھارتی گینگسٹرز، کال سینٹر فراڈز اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

کینیڈا کے وزیراعظم کی جانب سے سکھ رہنما کے قتل میں بھارتی ایجنٹوں کے ملوث ہونے کے الزامات کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی چلی آ رہی ہے۔

امریکا میں بھی ‘سائبر سکیمنگ’ اور ‘کال سینٹر فراڈ’ کے ذریعے معمر شہریوں کو لوٹنے والے بیشتر نیٹ ورکس کا سراغ بھارتی ریاستوں، بالخصوص گجرات اور پنجاب سے ملا ہے۔

ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی اور کینیڈین سیکیورٹی اداروں نے مشترکہ انٹیلی جنس شیئرنگ اور ملزمان کی گرفتاری کا باقاعدہ فریم ورک تیار کیا ہے تاکہ عالمی سطح پر پھیلے اس بھارتی مجرمانہ جال کو توڑ جا سکے۔

Related Articles