فضل الرحمان سے متعلق امریکی سفارتخانے کی کیبل ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل

فضل الرحمان سے متعلق امریکی سفارتخانے کی کیبل ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل

امریکی سفارتخانے کی ایک پرانی خفیہ سفارتی کیبل ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے، جس میں 2007 میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور اس وقت کی امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کے درمیان ملاقات کی تفصیلات درج ہیں۔

یہ کیبل 27 نومبر 2007 کو امریکی سفارتخانے اسلام آباد سے جاری کی گئی تھی اور اس کا موضوعAmbassador Discusses Elections with Fazlur Rehman  تھا کیبل میں 20 نومبر 2007 کو امریکی سفیر اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی ملاقات کا احوال بیان کیا گیا ہے۔

 کیبل  کے مطابق امریکی سفیر نے ملاقات کے دوران پاکستان میں ایمرجنسی ختم کرنے اور آزاد و منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے امریکی حمایت کا اظہار کیا،مولانا فضل الرحمان نے بھی آزاد اور منصفانہ انتخابات کی حمایت کی تاہم واضح کیا کہ ان کی جماعت انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی اور ایمرجنسی کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کا بھی کوئی منصوبہ نہیں۔

وزیراعظم بننے کی صورت میں سوال

کیبل کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے امریکی سفیر سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اگر وہ وزیراعظم بن جاتے ہیں تو کیا امریکی حکومت ان کے ساتھ کام کرے گی،دستاویز میں درج ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اس حوالے سے امریکی حمایت یا منظوری کے امکانات جاننے میں دلچسپی ظاہر کی۔

 

بے نظیر بھٹو کا معاملہ

ملاقات کے دوران اس وقت کی پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، کیبل کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے کہا  کہ انہیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ آیا دوبارہ ان کے ساتھ سیاسی طور پر کام کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

قبائلی علاقوں کی صورتحال

دستاویز کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے قبائلی علاقوں اور اُس وقت کے شمال مغربی سرحدی صوبے میں خراب سکیورٹی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا،ان کا کہنا تھا کہ اگر امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہوئی اور بعض علاقوں میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہ ہوسکا تو اس کا جے یو آئی (ف) کے انتخابی نتائج پر اثر پڑ سکتا ہے۔

طالبان اور القاعدہ پر بھی بات

ملاقات میں افغانستان، طالبان اور القاعدہ سے متعلق امریکی پالیسی بھی زیر بحث آئی، مولانا فضل الرحمان نے امریکی پالیسی کے حوالے سے سوالات کیے،امریکی سفیر نے طالبان کے ان عناصر اور القاعدہ کے درمیان فرق کی وضاحت کی جو افغان حکومت کے ساتھ مفاہمت کے لیے تیار ہوسکتے تھے۔

editor

Related Articles