امریکا کی سخت پابندیوں کے سامنے ثابت قدم ہیں اور رہیں گے،ایرانی صدر

امریکا کی سخت پابندیوں کے سامنے ثابت قدم ہیں اور رہیں گے،ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو اب بھی معاشی، عسکری اور سیکیورٹی محاذوں پر جنگ جیسی صورتحال کا سامنا ہے، تاہم ملک امریکی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود اپنی مزاحمت جاری رکھے گا۔

تہران میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران ایک غیر مساوی جنگ اور شدید دباؤ کا مقابلہ کر رہا ہےان دشمن کی کوشش تھی کہ ایران کو شدید بحران سے دوچار کرکے کمزور کیا جائے، حتیٰ کہ اسے وینزویلا جیسی صورتحال سے دوچار کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا، تاہم یہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔

ایرانی صدر نے کہا کہ مشکلات کے باوجود قومی اتحاد نے ایران کو ایک مضبوط طاقت کے طور پر ابھرنے میں مدد دی ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ عوام کو درپیش معاشی اور دیگر مسائل پر بھی جلد قابو پالیا جائے گا۔

مفاہمتی یادداشت کا دفاع

مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ ہونے والی مفاہمت کا بھی دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ماہرین نے اس مفاہمتی یادداشت کو مصلحت، عزت اور دانش مندی پر مبنی قرار دیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :استعفے کی افواہیں بے بنیاد، عہدے پر برقرار رہوں گا: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

انہوں نے کہا کہ جو حلقے اس مفاہمت کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ صورتحال اور اس کے تقاضوں کو درست انداز میں نہیں سمجھ رہے۔ اس سے قبل بھی ایرانی صدر مفاہمت کو شکست کے بجائے ایران کے وقار اور مفادات کے تحفظ سے جوڑ چکے ہیں۔

امریکا سے کشیدگی برقرار

ایرانی صدر کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ، پابندیوں اور سفارتی معاملات پر کشیدگی برقرار ہے،پزشکیان نے حالیہ دنوں میں یہ بھی کہا تھا کہ ایران مضبوط پوزیشن میں ہے اور موجودہ حالات میں جنگ کے خاتمے کے لیے راستہ نکالنا بہتر ہوگا۔

editor

Related Articles