نادرا نے واضح کردیا کہ پاک آئی ڈی ایپ موبائل سم جاری کرنے کا پلیٹ فارم نہیں، سم کے لیے شناختی تصدیق کے تقاضے پی ٹی اے طے کرتا ہے۔
نادرا نے پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے چہرے کی شناخت کے بعد موبائل فون سم جاری کیے جانے سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات پر اہم وضاحت جاری کردی ہے۔ نادرا کے ترجمان کے مطابق پاک آئی ڈی بنیادی طور پر شہریوں کو نادرا کی مختلف خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا پلیٹ فارم ہے اور اسے موبائل سم جاری کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔
نادرا ترجمان کا کہنا ہے کہ ادارہ موبائل سم کے اجرا اور بینکاری سمیت مختلف شعبوں میں چہرے کی شناخت کے نظام کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ تاہم موبائل سم کے لیے شناختی تصدیق سے متعلق تقاضے طے کرنے کی ذمہ داری پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی ہے۔
ترجمان کے مطابق سم جاری کرنے کے عمل میں نادرا تکنیکی معیار اور محفوظ شناختی تصدیق کی سہولت فراہم کرتا ہے جبکہ موبائل آپریٹرز اپنے مراکز، موبائل ایپلی کیشنز اور بائیومیٹرک آلات کے ذریعے متعلقہ قوانین اور ضوابط کے تحت خدمات فراہم کرتے ہیں۔
نادرا نے واضح کیا کہ موبائل آپریٹرز شہریوں کا بائیومیٹرک ڈیٹا اپنی مشینوں یا کسی علیحدہ بائیومیٹرک ڈیٹا بیس میں جمع نہیں کرسکتے۔ شناختی تصدیق کے عمل میں شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ اور مقررہ ضوابط کی پابندی ضروری ہے۔
ترجمان کے مطابق نادرا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، موبائل آپریٹرز اور اسٹیٹ بینک سے چہرے کی شناخت پر مبنی نظام کے نفاذ کو مزید تیز کرنے کی درخواست بھی کی ہے تاکہ شناختی تصدیق کے عمل کو جدید اور محفوظ بنایا جاسکے۔
نادرا نے مزید بتایا کہ شہری خدمات کے لیے پاک آئی ڈی کے ذریعے چہرے کی شناخت کی سہولت بدستور دستیاب ہے۔ ادارے کے مطابق موبائل سم کے اجرا اور نادرا کی شہری خدمات کے لیے استعمال ہونے والے شناختی نظام کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔