نیپال اور تبت کی سرحد پر اچانک آنے والے شدید سیلاب اور مٹی کے تودوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے بعد ماہرین نے دنیا میں ایک بڑے موسمیاتی خطرے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ سینکڑوں سیاح اور مقامی افراد لاپتا ہیں۔ متاثرین میں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ موسمی صورتحال نے اس خدشے کو بھی نمایاں کردیا ہے کہ دنیا ایک طاقتور ایل نینو موسمیاتی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ایل نینو کے باعث دنیا کے مختلف علاقوں میں موسم معمول سے زیادہ شدید ہوسکتا ہے۔
امریکی نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2026 سے فروری 2027 کے دوران شدید ایل نینو آنے کا امکان 65 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
ماہرین ممکنہ ایل نینو کا موازنہ 1877 کے شدید موسمیاتی واقعے سے بھی کر رہے ہیں، جس کے باعث مختلف خطوں میں خشک سالی، قحط اور غذائی بحران پیدا ہوئے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر رواں سال طاقتور ایل نینو آیا تو دنیا کے مختلف حصوں میں شدید گرمی، غیر معمولی بارشوں، سیلاب، خشک سالی اور زرعی پیداوار میں کمی جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایل نینو کا اثر صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات دنیا کے مختلف ممالک کے موسم، پانی کے ذخائر اور خوراک کی پیداوار پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
تاہم نیپال میں حالیہ سیلاب کو براہ راست ایل نینو کا نتیجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ اس واقعے کے مقامی اسباب میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر قدرتی عوامل بھی شامل ہیں۔