پمز پر سیاست چمکانے والے وزیراعلیٰ کو اپنے صوبے کی معصوم آیت نور یاد نہ آئی

پمز پر سیاست چمکانے والے وزیراعلیٰ کو اپنے صوبے کی معصوم آیت نور یاد نہ آئی

خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں 15 روز قبل پراسرار طور پر لاپتا ہونے والی 5 سالہ معصوم بچی آیت نور کے بہیمانہ قتل اور میڈیکو لیگل رپورٹ میں وحشیانہ جنسی درندگی کی تصدیق کے بعد صوبائی حکومت کی ترجیحات، طرزِ حکمرانی اور کارکردگی کے دعوئوں پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ اگرچہ پولیس نے واقعے کے بعد 4 مشتبہ ملزمان کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن 15 دن تک معصوم بچی کا سراغ نہ ملنا اور صوبائی چیف ایگزیکٹو کی اپنے ہی صوبے کے اس دلدوز المیے پر مکمل مجرمانہ خاموشی عوامی، سماجی اور سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصے کا باعث بنی ہوئی ہے۔

سفاکیت کی انتہا: تھیلے سے برآمدگی اور لرزہ خیز شواہد

کمسن آیت نور کے ساتھ پیش آنے والا سانحہ انسانیت کی تذلیل اور سفاکی کی بدترین مثال ہے، جائے وقوعہ سے ملنے والی تفصیلات اور تفتیشی شواہد کے مطابق درندوں نے معصوم بچی کے دونوں ہاتھ پیچھے باندھے، اس کی چیخ و پکار روکنے کے لیے منہ میں کپڑا ٹھونسا اور اوپر ٹیپ چپکا دی تاکہ وہ اپنی معصوم آواز میں مدد کے لیے نہ پکار سکے۔

ملزمان نے سفاکیت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے اس ننھی جان کی لاش کو ایک تھیلے میں بند کر کے ویرانے میں پھینک دیا، باضابطہ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے تصدیق کی ہے کہ 5 سالہ معصوم آیت نور کو بہیمانہ جسمانی تشدد اور جنسی درندگی کا نشانہ بنا کر بے دردی سے قتل کیا گیا، اس لرزہ خیز واقعے نے ہر ذی روح کو اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

پمز واقعے پر سیاست کی چمک بمقابلہ اپنے گھر کا ماتم کدہ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر جہاں سخت قانونی کارروائی ناگزیر ہے، وہیں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے اس معاملے کو اپنی سیاست چمکانے اور وفاق پر کیچڑ اچھالنے کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنسوں کے دوران گرجنا برسنا، وفاق پر تند و تیز نشتر چلانا اور اخلاقیات کے نام پر فوری استعفوں کے بلند و بانگ مطالبات کرنا دراصل اپنے صوبے کی تباہ حالی اور انتظامی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کا ایک حربہ قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی و سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ وفاق کو گورننس کا درس دینے والی صوبائی قیادت کو اپنے ہی صوبے کا ماتم کدہ اور تڑپتے ہوئے شہریوں کی سسکیاں دکھائی نہیں دے رہیں۔

صوبائی چیف ایگزیکٹو کی زبان پر تالے

انتہائی شرمناک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب اپنے ہی صوبے کی حدود میں ایک پانچ سالہ پھول کو مسل دیا گیا، تو صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے اب تک نہ کوئی باضابطہ مذمتی بیان سامنے آیا، نہ متاثرہ خاندان سے رابطہ کیا گیا اور نہ ہی لواحقین کی اشک شوئی کے لیے کوئی اقدام اٹھایا گیا۔

پمز واقعے پر روزانہ کی بنیاد پر بیانات داغنے والی صوبائی قیادت کی جانب سے 15 دن تک لاپتا رہنے کے بعد قتل ہونے والی معصوم بچی پر زبان پر تالے لگ جانا اور مجرمانہ چشم پوشی اختیار کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ حکمرانوں کے لیے انسانی جانوں اور معصوم بچوں کے تحفظ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

سرکاری وسائل کی نذر: پشاور سے اڈیالہ جیل تک کی سیاسی دوڑ

صوبائی وسائل، سرکاری گاڑیوں کے پروٹوکول اور ریاستی مشینری کا بے دریغ رخ عوام کے بنیادی مسائل اور امن و امان کے قیام کے بجائے دوسرے صوبوں میں جلسوں، جلوسوں، دھرنوں اور اڈیالہ جیل کی سیاسی دوڑ کی نذر ہو چکا ہے۔ عوامی ٹیکسوں کے پیسے پر سیاسی وفاداریاں نبھائی جا رہی ہیں، جبکہ صوبے کے عوام کو بنیادی تحفظ سے محروم کر دیا گیا ہے۔

اخلاقی اور آئینی تقاضا یہ تھا کہ وزیر اعلیٰ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کے بجائے فوری طور پر ہری پور کا دورہ کرتے، غمزدہ والدین کے سر پر ہاتھ رکھتے، انہیں ریاستی تحفظ کا یقین دلاتے اور واقعے کی شفاف تفتیش کی ذاتی نگرانی کرتے، مگر ذاتی سیاست کو انسانیت پر ترجیح دی گئی۔

تفتیشی و قانونی خامیوں کا بحران اور پولیس کا سست ردعمل

خیبر پختونخوا میں بچوں کے خلاف سنگین جرائم میں مسلسل اضافہ اور امن و امان کی ابتر صورتحال صوبائی اداروں کی ناقص کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔ گمشدگی کے ابتدائی اور انتہائی اہم 15 دنوں کے دوران پولیس روایتی سستی کا شکار رہی، جس کے باعث بچی کو زندہ بازیاب نہ کرایا جا سکا۔

واقعے کے بعد حراست میں لیے گئے 4 مشتبہ ملزمان کے خلاف کیس کو اب جدید ڈی این اے اور فارنزک شواہد کی بنیاد پر انسدادِ دہشت گردی (ATC) یا فاسٹ ٹریک عدالت میں لے جانا ناگزیر ہے تاکہ انہیں فوری کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔

اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت

پمز واقعے پر سیاست چمکانے اور وفاق سے اخلاقیات کے نام پر استعفے مانگنے سے پہلے خیبر پختونخوا حکومت کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا، معصوم آیت نور کا بہیمانہ قتل اور اس کے مظلوم والدین کی سسکیاں دہائی دے رہی ہیں کہ جن کی اپنی ناک کے نیچے ہری پور میں ایک خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی ہو، وہ دوسروں کو اخلاقیات اور گورننس کا سبق دینے کا کوئی اخلاقی حق نہیں رکھتے۔ جب تک اپنی حدود میں معصوم بچوں کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جائے گا، تب تک دوسروں پر تنقید محض منافقت اور انتظامی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے مترادف رہے گی۔

صوبائی تفتیشی نظام کی کمزوریاں بے نقاب

خیبر پختونخوا میں کمسن بچوں کے تحفظ اور سنگین جرائم کی روک تھام کے حوالے سے صوبائی حکومت اور پولیس انتظامیہ کو مسلسل شدید عوامی تنقید کا سامنا رہا ہے۔ ہری پور سے 15 روز قبل لاپتا ہونے والی 5 سالہ آیت نور کی ایک تھیلے سے بوری بند لاش ملنے اور پوسٹ مارٹم میں زیادتی کی تصدیق نے صوبائی تفتیشی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

ایسے نازک موڑ پر جب صوبائی قیادت کی تمام تر توجہ ہری پور واقعے پر متاثرہ خاندان کی داد رسی اور انصاف کی فراہمی پر ہونی چاہیے تھی، وزیر اعلیٰ کے پی کی جانب سے اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے واقعے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنے اور اپنے صوبے کے سانحے پر خاموشی اختیار کرنے نے حکومتی ترجیحات پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

editor

Related Articles