وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم تنخواہ 40 ہزار 700 روپے مقرر کردی ہے، اس سے کم تنخواہ لینے والے مخصوص سرکاری ملازمین کی آمدن کو مقررہ حد تک پہنچانے کے لیے خصوصی الاؤنس دینے کی تیاری کی گئی ہے۔
اس سہولت سے وفاقی سول ملازمین اور مختلف سرکاری اداروں میں کنٹریکٹ پر کام کرنے والے وہ ملازمین مستفید ہوسکیں گے جن کی ماہانہ تنخواہ 40 ہزار 700 روپے سے کم ہے،خصوصی الاؤنس مالی سال 2026-27 کے آغاز یعنی جولائی 2026 سے قابلِ ادائیگی ہوگا اور اگلے احکامات تک جاری رہ سکتا ہے،تاہم الاؤنس کی ادائیگی مخصوص شرائط سے مشروط ہوگی۔
انکم ٹیکس لاگو ہوگا
وزارت خزانہ کے مطابق ملازمین کو ملنے والا خصوصی الاؤنس انکم ٹیکس کے قواعد کے تحت ہوگا، یعنی اس پر قابلِ اطلاق ٹیکس عائد کیا جاسکے گا۔
چھٹی کے دوران بھی ادائیگی
خصوصی الاؤنس عام رخصت کے دوران بھی قابلِ ادائیگی رہے گا، اسی طرح ریٹائرمنٹ سے قبل لیو پریپریٹری ٹو ریٹائرمنٹ (LPR) پر جانے والے ملازمین کو بھی الاؤنس ملتا رہے گا۔
غیر معمولی چھٹی لینے والے ملازمین کو اس مدت کے دوران خصوصی الاؤنس ادا نہیں کیا جائے گا،بیرون ملک خدمات انجام دینے والے وفاقی ملازمین خصوصی الاؤنس کے حقدار نہیں ہوں گے۔ اسی طرح ڈیپوٹیشن پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کو بھی اس مدت کے دوران الاؤنس نہیں ملے گا۔
واپسی پر دوبارہ ملے گا
اگر کوئی ملازم بیرون ملک تعیناتی یا ڈیپوٹیشن مکمل کرکے پاکستان واپس آتا ہے تو واپسی کے بعد اسے دوبارہ اس شرح اور رقم کے مطابق خصوصی الاؤنس دیا جائے گا جس کا وہ پاکستان میں رہتے ہوئے حقدار ہوتا۔
اضافی اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟
وزارت خزانہ نے متعلقہ وزارتوں، ڈویژنوں اور محکموں کو ہدایت کی ہے کہ کم از کم تنخواہ میں اضافے اور خصوصی الاؤنس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اضافی مالی اخراجات مالی سال 2026-27 کے لیے پہلے سے مختص بجٹ سے پورے کیے جائیں۔
ہر ملازم کی تنخواہ نہیں بڑھے گی
اہم بات یہ ہے کہ یہ فیصلہ تمام وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں یکساں اضافے کے مترادف نہیں، خصوصی الاؤنس کا فائدہ صرف ان اہل ملازمین کو ہوگا جن کی تنخواہ مقررہ کم از کم حد 40 ہزار 700 روپے سے کم ہے اور جو مقررہ شرائط پر پورا اترتے ہیں۔