’فتنہ الہندوستان‘ سے وابستہ 9 انتہائی مطلوب دہشتگرد خواتین کے سر کی قیمت مقرر

’فتنہ الہندوستان‘ سے وابستہ 9 انتہائی مطلوب دہشتگرد خواتین کے سر کی قیمت مقرر

حکومت ‘بلوچستان’ نے صوبے میں بدامنی پھیلانے اور ‘فتنہ الہندوستان’ سے وابستہ 9 انتہائی مطلوب دہشتگرد خواتین کے سر کی قیمت 10 سے 15 لاکھ روپے مقرر کر دی ہے۔

گوادر، جیوانی اور تربت سے تعلق رکھنے والی یہ خواتین سادہ لوح بچیوں کو ورغلا کر ملک دشمن کارروائیوں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ان دہشتگردوں کی اطلاع دینے والے مخبروں کا نام اور شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔

صوبہ ‘بلوچستان’ میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے والے عناصر کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان، کلی زائیک میں کارروائی، مشتاق احمد عرف کوہ یار سمیت فتنہ الہندوستان کے 2 دہشتگرد ہلاک، 3 زخمی

صوبائی حکومت نے ایک اہم اور فیصلہ کن اقدام اٹھاتے ہوئے ‘فتنہ الہندوستان’ نامی کالعدم نیٹ ورک سے جڑی 9 خطرناک خواتین کو انتہائی مطلوب قرار دے کر ان کی گرفتاری کے لیے بھاری انعامی رقوم کا اعلان کیا ہے۔

یہ خواتین صوبے کے مختلف علاقوں میں شرپسندی کے بیج بونے اور دہشتگردی کے نیٹ ورک کو وسعت دینے میں براہ راست ملوث پائی گئی ہیں۔

انعامی رقوم اور شناخت کی رازداری

سرکاری اعلامیے کے مطابق ان مطلوب خواتین کی گرفتاری میں مدد دینے یا ان کے ٹھکانوں کی درست نشاندہی کرنے والوں کو 10 لاکھ سے 15 لاکھ روپے تک کا نقد انعام دیا جائے گا۔

حکومت نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ جو بھی محبِ وطن شہری ان سے متعلق معلومات مقررہ سرکاری رابطہ نمبرز پر فراہم کرے گا، اس کی شناخت ہر قیمت پر صیغہ راز میں رکھی جائے گی تاکہ اسے کسی قسم کے انتقامی خطرے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

دہشتگرد خواتین کی شناخت اور طریقہ واردات

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، ان خواتین کا تعلق صوبے کے حساس ترین ساحلی اور جنوبی علاقوں بالخصوص گوادر، جیوانی اور تربت سے ہے۔

مطلوبہ فہرست میں حنیفاں بی بی، عائشہ، رقیہ، حفصہ، زہرہ، امینہ بانی، زرمین اور عزیزاں کے نام نمایاں ہیں۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ فہرست میں شامل 8 خواتین کے سر کی قیمت 10، 10 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس نیٹ ورک کی ایک اہم کارندہ ‘عزیزاں’ کی اہمیت اور اس کے جرائم کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اس کے سر کی قیمت 15 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔

یہ شرپسند گروہ نہایت منظم انداز میں کام کرتا ہے، جس کا بنیادی ہدف دیہی اور پسماندہ علاقوں کی سادہ لوح اور معصوم خواتین کو ذہنی طور پر مفلوج کر کے انہیں ریاست مخالف کارروائیوں کے لیے بطور آلہ کار استعمال کرنا ہے۔

مزید پڑھیں:بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3: سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 15 دہشتگرد ہلاک

‘بلوچستان’ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک دشمن ایجنسیوں نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے روایتی ہتھکنڈوں کے ساتھ ساتھ نئی حکمتِ عملی اپنانا شروع کی ہے۔

سیکیورٹی فورسز کی کڑی نگرانی اور سخت چیکنگ کے باعث دہشت گردوں کے لیے مرد کارندوں کو استعمال کرنا مشکل ہو گیا ہے، جس کے بعد انہوں نے خواتین کو برین واش کر کے تخریبی کارروائیوں میں جھونکنا شروع کر دیا ہے۔

ماضیِ قریب میں خواتین خودکش حملہ آوروں کے دلخراش واقعات سامنے آ چکے ہیں جنہوں نے قومی سلامتی کے اداروں کو چوکنا کر دیا تھا۔ حالیہ حکومتی اقدام دراصل اسی پس منظر میں ریاستی اداروں کی اس مؤثر جوابی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔

حکومت ‘بلوچستان’ کی جانب سے خواتین دہشتگردوں کے سر کی قیمت مقرر کرنا اس بات کا واضح پیغام ہے کہ ریاست کے نزدیک جرم کا کوئی صنف یا روپ نہیں ہوتا۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں خواتین کو روایتی طور پر بے حد احترام اور پردے میں رکھا جاتا ہے، دشمن نے اسی سماجی کمزوری اور اقدار کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خاران شہر میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے مذموم عزائم ناکام بنادئیے

یہ اقدام دو لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اول، اس سے دہشتگردوں کے اس خاموش نیٹ ورک کو شدید نفسیاتی اور تنظیمی دھچکا لگے گا۔

دوم، انعامی رقم اور رازداری کی یقین دہانی مقامی آبادی کو ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونے کی ترغیب دے گی۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ قانون کے ہاتھ لمبے ہیں اور کوئی بھی شرپسند، چاہے وہ کسی بھی لبادے میں چھپا ہو، اب ریاست کے آہنی ہاتھوں سے بچ نہیں سکتا۔

اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے عوام اور سکیورٹی اداروں کا یہ اشتراک یقیناً ‘بلوچستان’ کے دیرپا امن کی بنیاد بنے گا۔

Related Articles