لکی مروت:نورنگ میں خود ساختہ پولیس امن کمیٹی کی جانب سے سڑک کی بندش ، احتجاج سے عوام اور تاجر برادری پریشان

لکی مروت:نورنگ میں خود ساختہ پولیس امن کمیٹی کی جانب سے سڑک کی بندش ، احتجاج سے عوام اور تاجر برادری پریشان

لکی مروت نورنگ میں خود ساختہ پولیس امن کمیٹی کی جانب سے سڑک کی بندش اور احتجاج کے باعث مقامی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق پولیس اور ٹریفک اہلکاروں کی ڈیوٹی سے غیر حاضری نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے، جس پر شہریوں نے صوبائی حکومت کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

نورنگ میں سڑک کی بندش کے باعث مقامی آبادی کے لیے آمدورفت میں مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ روڈ بند ہونے اور احتجاج جاری رہنے سے شہریوں کو اپنے روزمرہ کے کاموں کے لیے نقل و حرکت میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ احتجاج اور سڑک کی بندش سے وہ تنگ آ چکے ہیں، جبکہ صورتحال کے باعث عوام کی زندگی اجیرن بن کر رہ گئی ہے۔ شہریوں کے مطابق سڑکیں عام لوگوں کی آمدورفت کے لیے ہوتی ہیں اور ان کی بندش سے براہ راست شہریوں کے معمولات متاثر ہوتے ہیں۔

پولیس اور ٹریفک اہلکاروں کی غیر حاضری

مقامی افراد کے مطابق احتجاج کے دوران پولیس اور ٹریفک کے اہلکار اپنی ڈیوٹی سے غائب ہیں، جس کے نتیجے میں علاقے میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور عوام کو مشکلات سے بچانے کے لیے متعلقہ اہلکاروں کی موجودگی ضروری ہے، تاہم ڈیوٹی سے غیر حاضری کے باعث سڑک پر پیدا ہونے والی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق ٹریفک اور انتظامیہ کی ڈیوٹی سے غیر حاضری نے مسائل میں مزید اضافہ کیا ہے اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنوں امن کمیٹی پولیس احتجاج کا سرغنہ حضرت عمر مرغیاں چوری کرنے میں ملوث نکلا، آزاد ڈیجیٹل تہلکہ خیز تفصیلات سامنے لے آیا

سرائے نورنگ بازار کی تاجر برادری بھی پریشان

سڑک کی بندش اور احتجاج کے اثرات صرف عام شہریوں تک محدود نہیں رہے بلکہ سرائے نورنگ بازار کی تاجر برادری بھی اس صورتحال سے کافی پریشان ہے۔

تاجروں کے مطابق بازار اور اس سے منسلک آمدورفت متاثر ہونے سے کاروباری سرگرمیوں پر بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ احتجاج کے باعث سڑکوں پر معمول کی روانی برقرار نہ رہنے سے بازار آنے جانے والے افراد کو دشواری کا سامنا ہے۔

تاجر برادری سمیت مقامی شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ عوام اور کاروباری طبقے کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے

’’پولیس کی ذمہ داری عوام کا تحفظ ہے‘‘

سڑک کی بندش اور احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس فورس کی بنیادی ڈیوٹی لوگوں کی حفاظت کرنا ہے، نہ کہ احتجاج کر کے عوام کو ذلیل کرنا۔

شہریوں کا مؤقف ہے کہ پولیس اور انتظامیہ سے عوام کو امن، تحفظ اور سہولت کی توقع ہوتی ہے۔ ان کے مطابق جب سرکاری اہلکار ہی اپنی ڈیوٹی پر موجود نہ ہوں تو اس کا براہ راست اثر عام شہریوں پر پڑتا ہے اور صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

مقامی افراد نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ سڑک کی بندش اور احتجاج کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کے باوجود صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے مؤثر انتظامی موجودگی دکھائی نہیں دے رہی۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت کی گرفت کمزور، لکی مروت اور بنوں میں ’پولیس امن کمیٹی‘ کے خلاف جرائم اور غنڈہ گردی کے سنگین الزامات سامنے آگئے

صوبائی حکومت کی خاموشی پر سوالات

مقامی لوگوں نے اس معاملے پر صوبائی حکومت کی خاموشی کو بھی سمجھ سے بالاتر قرار دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑک کی بندش، ٹریفک کے مسائل اور انتظامی اہلکاروں کی مبینہ غیر حاضری جیسے معاملات پر حکومت کی جانب سے توجہ دی جانی چاہیے۔

ان کے مطابق عوام پہلے ہی آمدورفت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کی عدم موجودگی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا نوٹس لے کر عوام کو درپیش مشکلات ختم کی جائیں اور سڑک کی بندش کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کو معمول پر لایا جائے۔

عوام کو فوری ریلیف دینے کا مطالبہ

نورنگ میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث مقامی شہری اور تاجر برادری اس بات پر زور دے رہی ہے کہ عوام کو مزید مشکلات سے بچانے کے لیے سڑک کی روانی بحال کی جائے اور ٹریفک و انتظامی ذمہ داریاں پوری کی جائیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق احتجاج اپنی جگہ، تاہم عوام کی آمدورفت اور تحفظ متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور متعلقہ اہلکاروں کی موجودگی سے نہ صرف ٹریفک کو منظم کیا جا سکتا ہے بلکہ شہریوں کو درپیش مشکلات میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔

Related Articles