وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پمز حادثے کی عبوری انکوائری رپورٹ کل تک سامنے آجائے گی، جبکہ واقعے کی آزادانہ تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کل تک پمز ہسپتال واقعے سے متعلق بہت سی چیزیں واضح ہوجائیں گی اور تحقیقاتی کمیٹی واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی،وزیر قانون نے کہا کہ انسانی جان کی کوئی تلافی نہیں ہوسکتی، تاہم تحقیقاتی کمیٹی واقعے کی تحقیقات مکمل کرکے ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے، تاہم ذمہ داری کا حتمی تعین انکوائری کمیٹی کی تحقیقات کے بعد ہی ہوگا،وزیر قانون کا کہنا تھا کہ حادثات کبھی بھی منصوبہ بندی سے نہیں ہوتے، تاہم واقعے کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔
آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے انتخاب سے متعلق سوال پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس معاملے پر ان کی سیاسی ٹیم بہتر جواب دے سکتی ہے، یہ سیاسی فیصلے ہوتے ہیں اور اگر آزاد کشمیر کا آئین و قانون اس کی اجازت دیتا ہے تو کوئی قباحت نہیں،اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ فی الحال 28ویں آئینی ترمیم نہیں آرہی۔