پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) اسپتال میں آتشزدگی کے باعث 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے دلخراش واقعے پر جوڈیشل ایکٹوزم پینل نے صدرِ مملکت اور وزیراعظم کو مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔
خط میں سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں غیر جانبدار انکوائری کمیشن بنانے اور تمام شواہد فوری محفوظ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مطالبات نہ ماننے کی صورت میں ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا انتباہ دیا گیا ہے۔
ملک کے سب سے بڑے سرکاری اسپتالوں میں سے ایک، ‘پمز’ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد سول سوسائٹی اور قانونی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ہائیکورٹ نے پمز اسپتال میں سہولیات پر سوالات اٹھا دیے
اس سانحے کی شفاف تحقیقات کے لیے قانونی ماہرین پر مشتمل تنظیم جوڈیشل ایکٹوزم پینل نے باقاعدہ طور پر وفاقی حکومت سے رابطہ کر لیا ہے۔
پینل کی جانب سے صدرِ مملکت اور وزیراعظم کو ایک تفصیلی مراسلہ بھجوایا گیا ہے جس میں واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔
مراسلے کا متن اور اہم مطالبات
حکومتی شخصیات کو ارسال کیے گئے مراسلے کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ اس حساس نوعیت کے واقعے کی انکوائری کسی عام کمیٹی کے بجائے سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے حاضر سروس جج سے کرائی جائے۔
مراسلے میں زور دیا گیا ہے کہ سانحے کے روز کی سی سی ٹی وی فوٹیجز، متعلقہ وارڈ میں تعینات ڈیوٹی اہلکاروں کی فہرست اور اسپتال کے فائر سیفٹی ریکارڈ کو فوری طور پر محفوظ کیا جائے۔
مزید برآں متعلقہ حکام کو پابند کیا جائے کہ آتشزدگی سے متعلق کسی بھی قسم کے ریکارڈ یا شواہد کو تبدیل، ضائع یا چھپانے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔
ذمہ داروں کی برطرفی اور عدالتی کارروائی کا انتباہ
جوڈیشل ایکٹوزم پینل نے مطالبہ کیا ہے کہ جن افراد کی غفلت اور لاپرواہی سے یہ سانحہ رونما ہوا، ان کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور انکوائری مکمل ہونے تک انہیں کسی بھی صورت ان کے عہدوں پر برقرار نہ رکھا جائے۔
مراسلے کے آخر میں حکومت کو واضح الٹی میٹم دیا گیا ہے کہ اگر اس واقعے کی فوری جوڈیشل انکوائری شروع نہ کرائی گئی تو انصاف کے حصول کے لیے ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔
بدھ کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے چلڈرن وارڈ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی۔ اس ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں 14 معصوم نومولود بچے جھلسنے اور دم گھٹنے سے جان کی بازی ہار گئے۔
اس واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اسپتالوں میں ایمرجنسی ایگزٹ، فائر الارم اور آگ بجھانے والے آلات کی عدم دستیابی جیسے سنگین مسائل کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ورثاء اور عوام کی جانب سے مسلسل اسپتال انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت پر شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔
‘پمز’ جیسے وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے اور حساس اسپتال میں 14 بچوں کا جل کر مر جانا محض ایک حادثہ نہیں بلکہ پورے انتظامی اور صتِ عامہ کے نظام کی مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
مزید پڑھیں:’ایگزیکٹو ڈائریکٹز پمز رانا عمران سکندر کو کس نے تعینات کیا تھا؟‘، حقیقت کھل کر سامنے آگئی


