نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے سیالاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اب تک نیپال میں 469 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق نیپالی پولیس کا کہنا ہے کہ سیلاب اور تودے گرنے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 469 ہو گئی ہے ، سیلاب نے سڑکوں، پلوں، بجلی کے ڈھانچے اور آبادی والے علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔
حکام کے مطابق یہ حالیہ برسوں میں نیپال میں آنے والی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک ہے۔
جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب نیپالی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دریائے تریشولی کے نزدیک ایک سرنگ سے 350 افراد کو نکالا جا چکا ہے جبکہ فوج اندر پھنسے مزید 100 افراد کو کوششوں میں مصروف ہے۔
ریسکیو کا عمل جاری
نیپالی حکام ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں جبکہ دریا کے بہاؤ کے ساتھ دور دراز علاقوں سے درجنوں لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔
چین کے سرحدی علاقے گیارونگ میں بھی سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جہاں سرحدی کمپلیکس مکمل طور پر ملبے میں تبدیل ہوگیا جبکہ 558 افراد لاپتہ ہیں جن میں 260 غیر ملکی شامل ہیں اور تین ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔
نیپال میں لاپتہ غیر ملکیوں میں 288 بھارتی، 63 امریکی، 51 ملائیشین، 34 آسٹریلوی، 33 برطانوی اور 25 کینیڈین شہری شامل ہیں۔
مزید سیلاب کا خدشہ
نیپال اور چین نے مزید سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا ہے کیونکہ ملبے سے بننے والی جھیلوں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے اور ان کے پھٹنے کا خدشہ ہے، چین کے مطابق آئندہ تین روز میں تقریباً 30 لاکھ مکعب میٹر پانی ایک پہلے سے بند جھیل میں داخل ہونے کا امکان ہے، جس سے یکم ستمبر کے قریب شدید سیلابی ریلے کا خطرہ ہے۔
ماہرین کے مطابق نیپال اور چین کی سرحدی ہمالیائی علاقے کی جغرافیائی ساخت، برفانی جھیلوں کی حالت میں مسلسل ہونے والی تبدیلیاں، اور برسات کے موسم میں ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے اس علاقے میں اچانک آنے والی قدرتی آفات کے واقعات بار بار پیش آتے ہیں۔