وفاقی وزیر قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ اگر آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر اور مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے پارٹی پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے وزیراعظم کے لیے نامزد امیدوار بیرسٹر افتخار گیلانی کو ووٹ نہ دیا تو دونوں رہنماؤں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے امیدوار کو ووٹ دینا پارٹی پالیسی کا حصہ ہے اور کسی بھی رکن یا رہنما کی جانب سے پارٹی فیصلے کی خلاف ورزی کی صورت میں تنظیمی سطح پر کارروائی کا اختیار موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر نے پارٹی فیصلے پر عمل نہ کیا تو ان کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔
بیرسٹر عقیل ملک کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آزاد کشمیر میں نئے وزیراعظم کے انتخاب کے معاملے پر مسلم لیگ ن کے اندر اختلافات کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ ٹیکنوکریٹ کی نشست سے منتخب ہونے والے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیے جانے کے بعد پارٹی کے بعض سینئر رہنماؤں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے افتخار گیلانی کی نامزدگی پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی جانب سے نامزد امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا عندیہ بھی سامنے آیا ہے جس کے بعد پارٹی قیادت کے لیے صورتحال اہمیت اختیار کرگئی ہے۔
دوسری جانب بیرسٹر افتخار گیلانی نے اپنی نامزدگی پر پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ردعمل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات اور امیدوار کی نامزدگی کے مرحلے پر تحفظات پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ تمام معاملات بہتر ہوجائیں گے اور پارٹی کے تمام ساتھی حتمی فیصلے کے مطابق ان کا ساتھ دیں گے۔
وزیراعظم کے لیے نامزد امیدوار نے پارٹی کے اندر اختلافات کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ مسلم لیگ ن کے تمام رفقا پارٹی فیصلے کے مطابق اپنا کردار ادا کریں گے۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں میں مشاورت اور اختلاف رائے جمہوری عمل کا حصہ ہیں اور بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کیا جاسکتا ہے۔
پروگرام میں شریک پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہریار آفریدی نے مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت ایسے افراد کو حکومت میں شامل کررہی ہے جن کے حوالے سے سوالات موجود ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی شخص انتخابات میں کامیاب ہوا ہے تو اسے وزیراعظم کیوں نہیں بنایا جارہا۔
ادھر بیرسٹر افتخار گیلانی نے آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور احتجاج کے معاملے پر بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو عوام کے مطالبات کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا اور مسئلے کے حل کے لیے دونوں فریقوں کو لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور احتجاج کرنے والے فریق کے درمیان مذاکرات کے دوران دونوں جانب سے لچک دکھائی جائے تو معاملے کا حتمی اور مثبت حل نکالا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق احتجاج کرنے والے شہریوں کے ساتھ بات چیت اور رابطہ جمہوری اور سیاسی عمل کا بنیادی حصہ ہے۔
آزاد کشمیر میں وزیراعظم کے انتخاب سے قبل مسلم لیگ ن کے اندر سامنے آنے والے اختلافات نے سیاسی صورتحال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ پارٹی کے ناراض رہنما حتمی طور پر پارٹی فیصلے کے مطابق ووٹ دیتے ہیں یا اپنے تحفظات برقرار رکھتے ہیں۔