نیپال کا تباہ کن سیلاب، ’گلوف‘ کیا ہے اور یہ کیسے آتا ہے؟

نیپال کا تباہ کن سیلاب، ’گلوف‘ کیا ہے اور یہ کیسے آتا ہے؟

نیپال اور تبت کی سرحد پر مٹی، چٹانوں، برف اور پانی کے بڑے ریلے نے پہاڑی علاقوں میں تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد جان سے گئے جبکہ تقریباً 1500 افراد لاپتا ہیں۔ لاپتا افراد میں 800 کے قریب غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بدھ کی صبح اچانک برف، چٹانوں، کیچڑ اور پانی کا ایک انتہائی تیز ریلہ دریائی راستے سے نیچے آیا اور راستے میں آنے والے کئی قصبوں اور دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ، قدرتی آفت کے باعث کئی بستیاں، پل، سڑکیں، پن بجلی کے منصوبے اور سیکیورٹی چوکیاں متاثر ہوئی ہیں اور حکام نے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جبکہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

تباہی کا آغاز کہاں سے ہوا؟

ابتدائی تجزیوں کے مطابق تباہی کا آغاز لنگٹانگ لیرونگ پہاڑ کی ڈھلوان سے ہوا، جہاں گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ کر وادی میں گرا،  اس کے بعد برف، چٹانوں، مٹی اور پانی نے انتہائی تیز رفتار ریلے کی شکل اختیار کرلی۔

ماہرین کے مطابق  لنگٹانگ لیرونگ پہاڑ تقریباً 7 ہزار 234 میٹر بلند ہے اور کٹھمنڈو سے تقریباً 45 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر اور ماہرین کے ابتدائی تجزیوں کے مطابق پہاڑ پر تقریباً 17 ہزار فٹ کی بلندی پر موجود گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ اچانک ٹوٹا،  بتایا گیا ہے کہ برفانی حصے کی چوڑائی تقریباً 2 ہزار فٹ تھی۔ برف کا یہ بڑا حصہ تقریباً 4 ہزار فٹ نیچے وادی میں جا گرا، جس کے ساتھ چٹانیں، مٹی اور جمی ہوئی برف بھی نیچے آئی ،  اس شدید ٹکراؤ نے دریائی نظام کو متاثر کیا اور ایک خطرناک سیلابی ریلہ بن گیا۔

’گلوف‘ آخر کیا ہوتا ہے؟

ماہرین جس ممکنہ عمل کا ذکر کر رہے ہیں اسے گلیشیائی لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (GLOF) کہا جاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں یہ گلیشیئر سے بننے والی جھیل کے اچانک پھٹنے اور اس کا پانی تیزی سے نیچے بہنے کا عمل ہے۔

گلیشیئر جب آگے بڑھتا یا پیچھے ہٹتا ہے تو اپنے ساتھ لائی ہوئی چٹانیں، مٹی اور دیگر ملبہ ایک جگہ جمع کرتا رہتا ہے ، وقت کے ساتھ یہ ملبہ ایک قدرتی بند کی شکل اختیار کر لیتا ہے جسے مورین کہا جاتا ہے۔

گلیشیئر سے پگھلنے والا پانی اس قدرتی بند کے پیچھے جمع ہو کر جھیل بنا سکتا ہے۔ اگر یہ بند کمزور ہو کر ٹوٹ جائے تو جھیل کا پانی اچانک بڑی مقدار میں نیچے کی طرف بہہ نکلتا ہے۔ اسی عمل کو GLOF کہا جاتا ہے۔

صرف پانی نہیں، ملبہ بھی تباہی لاتا ہے

گلیشیائی سیلاب کا خطرہ صرف پانی کی تیز روانی تک محدود نہیں ہوتا ، اس کے ساتھ بڑے پتھر، برف، مٹی اور کیچڑ بھی انتہائی تیزی سے نیچے آ سکتے ہیں ، پہاڑی وادیوں میں یہ ریلہ اپنے راستے میں آنے والی سڑکوں، پلوں، عمارتوں اور دیگر ڈھانچوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ایسے سیلاب کا اثر بعض اوقات عام سیلاب کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید ہوتا ہے۔

گلیشیائی جھیل اچانک کیسے پھٹتی ہے؟

ماہرین کے مطابق گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں جس میں پانی کا مسلسل رساؤ قدرتی بند کو اندر سے کمزور کر سکتا ہے، جبکہ پہاڑ سے برف یا چٹان کا بڑا حصہ جھیل میں گرنے سے اچانک بڑی لہریں پیدا ہوسکتی ہیں۔

شدید بارش بھی خطرہ بڑھا سکتی ہے اور بارش جھیل میں پانی کی سطح بلند کرنے کے ساتھ مٹی اور ملبے کو بھی ڈھیلا کر سکتی ہے، جس سے قدرتی بند کے ٹوٹنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :نیپال میں سیلاب نے تباہی مچا دی ، 157 افراد ہلاک ، سینکڑوں لاپتہ

تاہم نیپال کے حالیہ واقعے کی حتمی وجہ ابھی ماہرین کے جائزے میں ہے، اس لیے اسے قطعی طور پر صرف ایک ہی وجہ سے جوڑنا قبل از وقت ہوگا۔

ہمالیہ میں خطرہ کیوں بڑھ رہا ہے؟

ہمالیہ میں گلیشیئرز کے پگھلنے اور پیچھے ہٹنے سے گلیشیائی جھیلوں کے حجم اور تعداد میں تبدیلی آ رہی ہے۔ انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق خطے کے گلیشیئر کئی دہائیوں سے مسلسل برف کھو رہے ہیں اور 2000 کے مقابلے میں برف کے ضیاع کی رفتار تقریباً دوگنا ہوچکی ہے۔

گلیشیئر کے پیچھے ہٹنے سے نئی جھیلیں بن سکتی ہیں، جبکہ پہلے سے موجود جھیلوں میں پانی کی مقدار بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس صورتحال میں ان جھیلوں کے نیچے واقع آبادیوں اور انفرا اسٹرکچر کو ممکنہ سیلاب کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔

جولائی 2025 میں بھی ایسا ہی ایک تباہ کن واقعہ پیش آیا تھا، جس کا آغاز چین کے گیریونگ کاؤنٹی سے ہوا اور سیلابی ریلہ نیپال کے راسوا ضلع تک پہنچ گیا۔ تاہم حکام نے اب تک یہ نہیں کہا کہ حالیہ واقعے کی وجہ بھی GLOF ہی تھا۔

ہمالیہ کی وادیوں میں آبادیاں کیوں خطرے میں ہیں؟

ہمالیہ کے کئی شہر، دیہات اور پن بجلی کے منصوبے پہاڑی وادیوں میں قائم ہیں، یہی وہ راستے ہیں جہاں گلیشیئر یا جھیل سے نکلنے والا پانی قدرتی طور پر نیچے کی طرف بہتا ہے۔

پہاڑی علاقوں میں پانی اور پن بجلی کے وسائل معاشی سرگرمیوں کے لیے اہم ہیں، اسی وجہ سے ان علاقوں میں تعمیرات اور ترقیاتی منصوبے بھی موجود ہیں۔ تاہم قدرتی آفات کے تناظر میں یہی مقامات زیادہ حساس ثابت ہوسکتے ہیں۔

صورتحال کا مطلب کیا ہے؟

گلیشیائی سیلاب کے خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنا آسان نہیں، خصوصاً ان جھیلوں تک رسائی انتہائی مشکل ہوتی ہے جو ہزاروں میٹر کی بلندی پر واقع ہیں۔ جھیلوں سے پانی نکالنے جیسے اقدامات بھی احتیاط کے بغیر مزید خطرہ پیدا کرسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایسے علاقوں میں مسلسل نگرانی، موسم اور دریاؤں کی سطح ناپنے والے آلات اور بروقت وارننگ کا نظام اہم کردار ادا کرسکتا ہے،  ساتھ ہی ممکنہ سیلابی راستوں میں نئی تعمیرات سے گریز بھی نقصان کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

نیپال اور تبت کی سرحد پر حالیہ تباہی نے ایک بار پھر توجہ اس جانب دلائی ہے کہ ہمالیہ میں گلیشیئرز سے جڑی قدرتی تبدیلیاں صرف پہاڑی علاقوں تک محدود خطرہ نہیں، اچانک آنے والا سیلاب چند ہی لمحوں میں دور دراز آبادیوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرسکتا ہے۔

Related Articles