ایران نے امریکا کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیوں کے خلاف اقوام متحدہ سے باضابطہ رجوع کرلیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کو خط ارسال کرتے ہوئے امریکی اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے بھیجے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف اختیار کی جانے والی اقتصادی پالیسی اور پابندیاں معاشی دباؤ کی ایک سنگین شکل ہیں۔ ایرانی حکومت نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یکطرفہ اقتصادی پابندیوں اور ان کے ذریعے ممالک پر دباؤ ڈالنے کے اقدامات کی مذمت کرے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن مختلف ممالک کے ساتھ ایران کے اقتصادی تعلقات محدود یا ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ تہران کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات ایران کی معیشت کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی زندگی پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی عوام کے لیے بنیادی ضروریات تک رسائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ عام شہریوں کو ضروری اشیا اور دیگر بنیادی سہولیات کی دستیابی میں مشکلات پیدا کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی امریکی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کی ایران کے حوالے سے موجودہ پالیسی اب مذاق بن چکی ہے اور واشنگٹن اپنی پالیسی کے دفاع کے لیے بحرین جیسے ممالک کا سہارا لے رہا ہے۔
اسماعیل بقائی نے ایران اور بحرین کے درمیان اقتصادی تعلقات کی نوعیت پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کوئی قابل ذکر اقتصادی تعلق موجود نہیں ہے، اس لیے بحرین کو بنیاد بنا کر ایران کے خلاف امریکی اقدامات کا جواز پیش کرنا قابل فہم نہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا ایسے ملک پر مزید پابندیاں عائد کررہا ہے جو پہلے ہی مختلف اقتصادی پابندیوں کا سامنا کررہا ہے۔ تہران کے مطابق امریکی اقدامات کا مقصد ایران کو اقتصادی طور پر مزید دباؤ میں لانا اور عالمی سطح پر اس کے تجارتی روابط محدود کرنا ہے۔
ایران کی جانب سے اقوام متحدہ سے رجوع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان اقتصادی اور سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ ایرانی حکومت مسلسل امریکی پابندیوں کو یکطرفہ اقدامات قرار دیتے ہوئے ان کی مخالفت کرتی رہی ہے، جبکہ امریکا ایران کے خلاف دباؤ کی پالیسی کو اپنی خارجہ حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔
اب ایران نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یکطرفہ پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کے معاملے پر اپنا کردار ادا کریں۔ تہران کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے کو ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جن کے نتیجے میں عام شہریوں کی بنیادی ضروریات متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔
ایرانی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کو ارسال کیا گیا خط اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تہران امریکی پابندیوں کے خلاف سفارتی محاذ پر بھی اپنی کوششیں تیز کررہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سے اس معاملے پر ردعمل اہمیت اختیار کرسکتا ہے۔