سونے کی قیمت میں اچانک بڑی کمی، عالمی منڈی میں کیا ہوا؟

سونے کی قیمت میں اچانک بڑی کمی، عالمی منڈی میں کیا ہوا؟

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں رواں ہفتے زبردست اتار چڑھاؤ دیکھا گیا سونا ہفتے کے آغاز میں تین ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچا تاہم امریکی شرح سود میں ممکنہ اضافے کے خدشات کے بعد جمعہ کو قیمت میں 3 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی۔ اس کے باوجود گزشتہ چند ہفتوں کی مجموعی تیزی نے سونے کو بلند سطح پر برقرار رکھا ہے۔ جمعہ کو اسپاٹ گولڈ 4,567.23 ڈالر فی اونس تک گر گیا جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی نمایاں کمی کے ساتھ بند ہوئے۔

رواں ہفتے کے دوران سونے کی قیمت میں پہلے مسلسل تیزی دیکھی گئی۔ 24 اگست کو امریکی گولڈ فیوچرز 4,640.80 ڈالر فی اونس پر بند ہوئے اور صرف چار کاروباری دنوں میں سونے کی قیمت تقریباً 6.3 فیصد بڑھ گئی تھی۔ اس دوران سونے نے مسلسل کئی سیشنز میں اضافہ ریکارڈ کیا اور تین ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح حاصل کی۔

تاہم ہفتے کے اختتام پر صورتحال اچانک تبدیل ہوگئی۔ امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کے افراط زر اور شرح سود سے متعلق سخت مؤقف نے سرمایہ کاروں کی توقعات بدل دیں۔ مارکیٹ میں ستمبر میں امریکی شرح سود بڑھنے کا امکان نمایاں طور پر بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں ڈالر اور امریکی بانڈز کی ییلڈ میں اضافہ ہوا جبکہ سونے پر دباؤ آیا۔

یہ بھی پڑھیں:سونے کی تیزی کے بعد مارکیٹ میں بڑا موڑ، آج کیا ہوا؟

سونے کے لیے زیادہ شرح سود منفی سمجھی جاتی ہے کیونکہ سونا کوئی باقاعدہ منافع یا سود فراہم نہیں کرتا۔ جب بانڈز اور دیگر سودی اثاثوں پر منافع بڑھنے لگتا ہے تو سرمایہ کار سونے کے بجائے ان اثاثوں کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کے لیے طویل مدت میں کئی عوامل اب بھی معاون ہیں جن میں مرکزی بینکوں کی خریداری عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور امریکی مالیاتی صورتحال سے متعلق خدشات شامل ہیں۔ رواں ماہ بھی سونے میں مجموعی طور پر نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔

عالمی سطح پر سونے کی بلند قیمتوں کا براہ راست فائدہ سونے کی کان کنی کرنے والی کمپنیوں کو بھی پہنچا ہے۔ جنوبی افریقا کی بڑی گولڈ مائننگ کمپنی Harmony Gold نے جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال میں سالانہ منافع میں 87 فیصد اضافہ رپورٹ کیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق کمپنی کو گزشتہ مالی سال میں سونے کی اوسط قیمت 3,811 ڈالر فی اونس ملی جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 35 فیصد زیادہ تھی۔ اسی بلند قیمت نے پیداوار میں 3 فیصد کمی کے باوجود کمپنی کے منافع میں نمایاں اضافہ کرنے میں مدد دی۔

کمپنی کی ہیڈ لائن آمدنی فی شیئر بھی 23.37 رینڈ سے بڑھ کر 43.63 رینڈ ہوگئی، جبکہ کمپنی نے ریکارڈ سالانہ ڈیویڈنڈ بھی اعلان کیا۔

یوں عالمی سونے کی مارکیٹ میں اس وقت ایک دلچسپ صورتحال ہے ایک طرف بلند قیمتیں اور عالمی غیر یقینی صورتحال سونے کو سہارا دے رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف امریکی شرح سود بڑھنے کے خدشات قیمت میں اچانک کمی کا سبب بن رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین آنے والے دنوں میں بھی سونے کی قیمت میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles