کراچی، کوہاٹ اور گلگت بلتستان کے بعد حافظ آباد اور چنیوٹ کے شہریوں کی جانب سے بھی ملک میں عوامی محرومیوں کے خاتمے، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور انتظامی بہتری کے لیے نئے صوبوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ سامنے آگیا۔ شہریوں نے مؤقف اختیار کیا کہ نئے صوبوں کے قیام سے اختیارات عوام کی دہلیز تک منتقل کرنے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بہتری لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
حافظ آباد کے شہریوں کا نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کا اظہار
’’آزاد ڈیجیٹل ‘‘ کی جانب سے کئے گئے سروے میں حافظ آباد کے شہریوں نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے انتظامی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ملک میں انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کے لیے نئے صوبوں کا قیام ضروری ہے۔ ان کے مطابق بڑے انتظامی یونٹس کے بجائے چھوٹے صوبے اور یونٹس بنائے جائیں تو عوام کو سرکاری سہولیات تک رسائی میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔
حافظ آباد کے شہریوں کی جانب سے پنجاب میں مزید صوبوں کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ شہریوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اختیارات کو مرکز یا بڑے انتظامی مراکز تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں نچلی سطح تک منتقل کیا جائے، تاکہ عام شہریوں کو سرکاری سہولیات کے حصول کے لیے طویل فاصلوں اور پیچیدہ انتظامی مراحل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
شہریوں نے اس حوالے سے عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
چنیوٹ کے شہریوں نے بھی ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامی تقسیم کے ذریعے اختیارات کو عوام کے قریب لایا جا سکتا ہے اور مقامی سطح پر درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
چنیوٹ کے شہریوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر عملی اقدامات کریں۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کو اس معاملے کو محض سیاسی بحث تک محدود رکھنے کے بجائے انتظامی اصلاحات کے لیے عملی پیش رفت کرنی چاہیے۔
چنیوٹ کے شہریوں نے سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ شہریوں کے مطابق اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے عوام کو سرکاری اداروں اور بنیادی سہولیات تک آسان رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامی معاملات میں بہتری اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے مقامی سطح پر اختیارات کی موجودگی ضروری ہے۔
عوامی محرومیوں کے خاتمے کے لئے نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ
نئے صوبوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کرنے والے شہریوں کا بنیادی مؤقف عوامی محرومیوں کے خاتمے، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور انتظامی بہتری سے متعلق ہے۔
ان کے مطابق موجودہ انتظامی ڈھانچے میں بعض علاقوں کے عوام کو اپنے مسائل کے حل اور سرکاری سہولیات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام سے حکومتی اداروں اور عام شہریوں کے درمیان فاصلہ کم کیا جا سکتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اختیارات کو عوام کی دہلیز تک منتقل کرنا انتظامی نظام کو زیادہ مؤثر اور عوام دوست بنانے کی سمت میں اہم قدم ہو سکتا ہے۔
معلومات کے مطابق کراچی، کوہاٹ اور گلگت بلتستان کے بعد اب حافظ آباد اور چنیوٹ کے عوام کی جانب سے بھی نئے صوبوں اور چھوٹے یونٹس کے قیام کی حمایت سامنے آئی ہے۔
ان مطالبات میں بنیادی طور پر انتظامی بہتری، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ انتظامی اکائیوں کو چھوٹا کرنے سے عوامی مسائل کو مقامی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں حل کرنے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔