پاکستان میں نئے صوبے کیسے بنیں گے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں

پاکستان میں نئے صوبے کیسے بنیں گے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کے آئینی اور قانونی طریقہ کار سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق کسی نئے صوبے کے قیام کے لیے آئین کے پانچ اہم آرٹیکلز میں ترمیم ضروری ہوگی، جبکہ ماضی میں مختلف اسمبلیوں سے منظور ہونے والی قراردادیں آئینی طور پر مؤثر نہیں ہیں۔

ذرائع کے مطابق نئے صوبے کے قیام کے لیے قومی اسمبلی، سینیٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلی تینوں سے آئینی ترمیم کی منظوری درکار ہوگی، جو ہر ایوان میں دو تہائی اکثریت سے منظور کی جائے گی۔

پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے آئین کے آرٹیکل 1، 51، 59، 106 اور 239 میں ترمیم کرنا ہوگی۔ ان ترامیم کے ذریعے صوبوں کی تعداد، قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کے علاوہ خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کی نئی تقسیم بھی طے کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق نئے صوبے کے قیام کی صورت میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کا بھی ازسرنو تعین کرنا ہوگا تاکہ نئی انتظامی تقسیم کے مطابق نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: نئے صوبے بننے کی راہ میں کون سے بڑی رکاوٹ ہے، رہنما پی پی پی کا انکشاف

آرٹیکل 239 کے تحت آئینی ترمیمی بل سب سے پہلے قومی اسمبلی یا سینیٹ میں سے کسی ایک ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ اس کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے الگ الگ دو تہائی اکثریت سے منظوری حاصل کرنے کے بعد بل متعلقہ صوبائی اسمبلی کو بھیجا جائے گا۔

متعلقہ صوبائی اسمبلی کو بھی اپنے ایوان کی دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم کی منظوری دینا ہوگی۔ تمام آئینی مراحل مکمل ہونے کے بعد بل حتمی توثیق کے لیے صدرِ مملکت کو ارسال کیا جائے گا، اور صدر کے دستخط کے بعد ہی نئے صوبے کے قیام کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہو سکے گا۔

پارلیمانی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ماضی میں نئے صوبوں کے قیام کے حق میں صوبائی اسمبلیوں سے منظور کی جانے والی قراردادیں، آئینی ترمیم کے بغیر، کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتیں۔ ان کے مطابق نیا صوبہ صرف آئین میں مقررہ طریقہ کار اور تمام متعلقہ ایوانوں سے دو تہائی اکثریت کی منظوری کے بعد ہی قائم کیا جا سکتا ہے۔

Related Articles