وزیراعظم شہباز شریف نے پمز آتشزدگی کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر نومولود بچے کو بچانے والی نرس رضیہ نورین کے لیے ستارۂ خدمت اور ایک کروڑ روپے انعام کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پر منعقدہ اجلاس کے دوران نرس رضیہ نورین کی بہادری اور فرض شناسی کو سراہتے ہوئے اعزاز اور انعام کی منظوری دی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے نرس رضیہ نورین کی جانب سے آگ کے باوجود اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے نومولود بچے کو بچانے کے عمل کو قابل تحسین قرار دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ نرس رضیہ نورین نے کمال ذمہ داری اور بہادری کا بہترین ثبوت دیا۔ انہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچے کی جان بچائی، جس پر وزیراعظم سمیت پوری قوم کو نرس رضیہ نورین پر فخر ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایسے فرض شناس لوگوں کی جس قدر ستائش کی جائے کم ہے۔ وزیراعظم نے نرس رضیہ نورین کی بہادری کے اعتراف میں انہیں ستارۂ خدمت دینے کی منظوری دی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے لیے ایک کروڑ روپے کے انعام کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
یہ فیصلہ پمز آتشزدگی کے واقعے سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پر منعقدہ اجلاس کے دوران کیا گیا۔ پمز آتشزدگی کے واقعے پر وزیراعظم نے اسپتال کے متعدد اعلیٰ افسران کو فوری طور پر معطل کرکے ان کے خلاف کارروائی کرنے کی منظوری بھی دی۔
معطل کیے جانے والے افراد میں اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور چوہدری ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی پمز محمد عثمان اور سی ڈی اے کے ایمرجنسی سروس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالرحمان شامل ہیں۔
وزیراعظم نے چیف ایگزیکٹو آفیسر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے جن افراد کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے، ان کی جگہ نئے افراد کی فوری اور ایک ساتھ تعیناتی کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پمز کے نیونیٹل وارڈ میں عالمی ادارۂ صحت کے متعلقہ تمام قواعد کی خلاف ورزی پائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اسپتال میں آگ جیسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے حوالے سے کوئی افسر موجود نہیں تھا، جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو یہ اضافی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پمز میں آتشزدگی یا ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کوئی تفصیلی ایس او پیز یا تربیت موجود نہیں تھی۔ تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق پمز کے 13 ایس او پیز میں صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورت حال کا تذکرہ موجود تھا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ واقعے کے وقت سپروائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا۔
پمز آتشزدگی کے واقعے سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پیش کی گئی۔ اجلاس کے دوران واقعے سے متعلق ابتدائی تحقیقات اور ذمہ داریوں کے تعین پر بریفنگ دی گئی، جس کے بعد وزیراعظم نے مختلف اقدامات کی منظوری دی۔
پمز آتشزدگی کے دوران نومولود بچے کو بچانے والی نرس رضیہ نورین کے لیے ستارۂ خدمت اور ایک کروڑ روپے انعام کی منظوری بھی اسی اجلاس کے دوران دی گئی۔