مولانا فضل الرحمن کے ارادے خطرناک نظر آتے ہیں، سیاست اور مذہب میں واضح فرق ہونا چاہیے؛ دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر(ر) محمود شاہ

مولانا فضل الرحمن کے ارادے خطرناک نظر آتے ہیں، سیاست اور مذہب میں واضح فرق ہونا چاہیے؛ دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر(ر) محمود شاہ

دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی سیاسی و مذہبی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان کے سیاسی اندازِ فکر اور مبینہ ارادوں کو ملک کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔

خیبر کرونیکلز پر سینئر صحافی محمد عرفان کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے سیاست کو مذہب سے الگ رکھنے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن مذہب کو اپنے سیاسی و ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہا کہ سیاست کو مذہب سے الگ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاہم مولانا فضل الرحمن نے ہمیشہ مذہب کا نام استعمال کرکے اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد حاصل کیے۔

انہوں نے مولانا فضل الرحمن کے سیاسی اندازِ فکر اور ان کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ملک کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 1973ء کے آئین میں مذہبی امور کے حوالے سے رہنمائی کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی صورت میں ایک بااختیار اور متوازن پلیٹ فارم موجود ہے۔

بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے اس ادارے کی آئینی روح کے مطابق کام کرنے کے بجائے ہمیشہ اپنے پسندیدہ اور ہم خیال افراد کو اس میں شامل کرنے کی کوشش کی تاکہ اپنے فیصلوں اور نظریات کو نافذ کیا جا سکے۔ بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمن دشمنی اور خوف کی وجہ سے طالبان کا کھل کر سامنا کرنے سے کتراتے ہیں اور خود کو محفوظ رکھتے ہوئے طالبان کے مذہبی خیالات اور کارروائیوں پر کھل کر بات نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیں: فضل الرحمٰن کے افغان طالبان سے روابط پر بھکر اور چنیوٹ کے شہریوں سخت ردعمل، وضاحت کا مطالبہ

دفاعی تجزیہ کار نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمن واقعی اسلام کے سچے فہم کے مدعی ہیں تو ان کا بنیادی فرض بنتا ہے کہ وہ طالبان کو درست اور حقیقی اسلامی تعلیمات سے آراستہ کریں۔ انہیں خوف یا سیاسی مفاد کے تحت طالبان سے آنکھیں نہیں چرانی چاہئیں اور نہ ہی ایسا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے جس سے انہیں تحفظ فراہم کرنے کا سبب بننے کا تاثر پیدا ہو۔

بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے الزام عائد کیا کہ مولانا فضل الرحمن دینی مدارس کے طلبہ کو اپنے سیاسی طاقت کے مظاہرے اور اجتماعات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی ریاست یا کوئی حکومت دینی مدارس میں اصلاحات لانے اور انہیں جدید تعلیمی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو مولانا فضل الرحمن اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف اور جے یو آئی کے بڑوں کی ملاقات میں فضل الرحمن نے وزارت اعلیٰ و قومی اسمبلی میں عہدہ مانگ لیا، فیاض الحسن چوہان کا تہلکہ خیز انکشاف

دفاعی تجزیہ کار نے زور دیا کہ مدارس کے طلبہ کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید عصری علوم بھی فراہم کیے جانے چاہئیں۔ یہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے تاکہ مدارس کے بچے معاشرے کے دیگر شعبوں میں بھی فعال کردار ادا کر سکیں۔ بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے دعویٰ کیا کہ مولانا فضل الرحمن ماضی کی مختلف حکومتوں کا حصہ رہ کر اقتدار اور مالی مراعات سے مستفید ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے شہداء کی زمینوں میں سے 1200 ایکڑ رقبہ اپنے نام الاٹ کروایا۔

Related Articles