’’صیہونی طاقتوں نے عمران خان کو منصوبہ بندی کے تحت ہیرو بنا کر پیش کیا‘‘، فیاض الحسن چوہان کا بڑا دعویٰ

’’صیہونی طاقتوں نے  عمران خان کو منصوبہ بندی کے تحت ہیرو بنا کر پیش کیا‘‘، فیاض الحسن چوہان کا بڑا دعویٰ

سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ عمران خان کو بیرونی طاقتوں نے پاکستان میں ایک ’’ہیرو‘‘ کے طور پر لانچ کیا اور 1992 کے ورلڈکپ کی کامیابی کو ان کی مقبولیت اور سیاسی شناخت بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ آزاد ڈیجیٹل پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے عالمی صیہونی طاقتوں اور گولڈ سمتھ خاندان کے کردار سے متعلق دعوے کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ عمران خان کو ہیرو بنا کر پاکستان میں لانچ کرنے والی طاقتیں اور گولڈ سمتھ خاندان اب کس ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ آج بھی تحریک انصاف کے حامیوں کی جانب سے یہ مؤقف دہرایا جاتا ہے کہ 1992 کا ورلڈکپ عمران خان نے جتوایا تاہم ان کے مطابق عمران خان کو ایک ایسے ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا جو حقیقت میں بیرونی طاقتوں کی جانب سے ایک منصوبہ بندی کے تحت لانچ کیے گئے تھے۔

فیاض الحسن چوہان کا ورلڈکپ 1992 کا ’’پوسٹ مارٹم‘‘

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے کرکٹ کے کھیل کو سیاست کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور ان کے مطابق عالمی صیہونی طاقتوں اور جمائما گولڈ سمتھ نے اپنے بچوں قاسم گولڈ سمتھ اور سلیمان گولڈ سمتھ کے ذریعے کرکٹ کے میدان کو سیاسی طور پر پراگندہ کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گولڈ سمتھ خاندان اور عالمی صیہونی طاقتوں کی جانب سے عمران خان کے معاملے کو دوبارہ اجاگر کرنے کے لیے کرکٹ کے کھیل اور اس سے جڑی شخصیات کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ فیاض الحسن چوہان نے مزید دعویٰ کیا کہ عمران خان کو ایک منصوبہ بندی کے تحت ہیرو بنا کر پاکستان میں لانچ کیا گیا اور 1992 کے ورلڈکپ کی کامیابی کو ان کی ہیرو سازی کے لیے استعمال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف اور جے یو آئی کے بڑوں کی ملاقات میں فضل الرحمن نے وزارت اعلیٰ و قومی اسمبلی میں عہدہ مانگ لیا، فیاض الحسن چوہان کا تہلکہ خیز انکشاف

انہوں نے کہا کہ عمران خان گزشتہ چار سال سے بھرپور کوششوں کے باوجود پاکستان کی ریاست، اسٹیبلشمنٹ اور عدالتی نظام کی گرفت سے باہر نہیں نکل سکے۔ فیاض الحسن چوہان کے مطابق اب کرکٹ کے کھیل کے میدانوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور کھلاڑیوں اور سابق کرکٹرز کے ذریعے عمران خان سے متعلق مطالبات سامنے لائے جا رہے ہیں۔

مائیک ایتھرٹن اور عالمی کرکٹرز کا کردار

فیاض الحسن چوہان نے گفتگو کے دوران  سابق کرکٹر اور سکائی نیوز کے تجزیہ کار مائیک ایتھرٹن کا بھی ذکر کیا۔  فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ اسکائی نیوز، فاکس نیوز، سی این این اور بی بی سی سمیت متعدد عالمی میڈیا اداروں کے مالکان اور اداروں صیہونی اور یہودی طاقتوں سے منسلک ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسکائی نیوز پر قاسم گولڈ سمتھ اور سلیمان گولڈ سمتھ کے انٹرویوز ہوئے اور مائیک ایتھرٹن کی جانب سے بھی عمران خان سے متعلق مطالبات اور تبصرے سامنے آئے ہیں۔ فیاض الحسن چوہان نے اس حوالے سے مختلف سابق کرکٹ کپتانوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ عالمی سطح پر متعدد سابق کھلاڑیوں کو بھی اس معاملے میں سامنے لایا گیا۔

سنیل گواسکر، کپل دیو اور جاوید میانداد کا ذکر

سابق صوبائی وزیر نے اپنی گفتگو میں بھارت کے سابق کرکٹرز سنیل گواسکر اور کپل دیو جبکہ پاکستان کے سابق کپتان جاوید میانداد کا بھی نام ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سابق کرکٹرز کی جانب سے عمران خان کے حوالے سے مطالبات سامنے آئے ہیں۔ جاوید میانداد کے بارے میں فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ وہ ایک لیجنڈ ہیں، تاہم ان کے مطابق دوستی اور تعلقات کی وجہ سے وہ حقیقی تجزیہ کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔

’’1992 کے ورلڈکپ کے ذریعے پری پلانڈ ہیرو بنایا گیا‘‘

فیاض الحسن چوہان نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 32 سے 34 سال کے دوران عمران خان کو 1992 کے ورلڈکپ کی بنیاد پر ایک ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ ان کے مطابق پوری دنیا میں میڈیا کے ذریعے اس بیانیے کو فروغ دیا گیا کہ 1992 کے ورلڈکپ میں پاکستان کی کامیابی عمران خان کی ہر شعبے میں غیر معمولی کارکردگی کا نتیجہ تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ‏ فضل الرحمان کا بلڈ ٹیسٹ کروائیں اگر اس کے خون میں الکوحل نہ نکلے میں معافی مانگوں گا، فیاض الحسن چوہان کا پرانا ویڈیو کلپ وائرل

انہوں نے کہا کہ عام طور پر یہ تصور پیش کیا گیا کہ عمران خان نے باؤلنگ، بیٹنگ، فیلڈنگ، کپتانی، کوچنگ اور مشاورت سمیت ہر شعبے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اسی وجہ سے پاکستان ورلڈکپ جیتا۔ فیاض الحسن چوہان نے اس تصور سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود 1992 کا ورلڈکپ دیکھا تھا اور ان کے مطابق اس ٹورنامنٹ میں عمران خان کی ایسی کارکردگی نہیں تھی جسے ہر شعبے میں نمبر ون قرار دیا جا سکے۔

سابق صوبائی وزیر دعویٰ کیا کہ پاکستان اس ٹورنامنٹ میں ورلڈکپ سے باہر ہونے کی پوزیشن میں تھا اور ایک میچ کے دوران بارش کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال نے پاکستان کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق بارش کے نتیجے میں ایک ملک کو شکست ہوئی اور پوائنٹس کی ایسی صورتحال بنی جس کے بعد پاکستان سیمی فائنل میں پہنچنے کے قابل ہوا۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ اگر یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی تو پاکستان ٹورنامنٹ سے باہر ہو جاتا۔ ان کے مطابق 1992 کے ورلڈکپ سے متعلق کئی دہائیوں سے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا گیا جس میں عمران خان کو پاکستان کی کامیابی کا مرکزی کردار قرار دیا گیا۔

انہوں نے اس بیانیے کو منصوبہ بندی کے تحت تیار کیا گیا تصور قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے ذریعے اسے عام کیا گیا اور اسے پاکستان کے عوام، بالخصوص نئی نسل کے ذہنوں میں راسخ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ کے کھیل اور ماضی کے کھلاڑیوں کی مقبولیت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سابق کرکٹرز اور عالمی میڈیا کے بعض حلقوں کی جانب سے عمران خان سے متعلق بیانات اسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

Related Articles