عمران خان کو خاندان سے رابطے اور طبی سہولیات حاصل ہیں، سی این این کی اینکر بیکی اینڈرسن نے تفصیلات شیئر کردیں

عمران خان کو خاندان سے رابطے اور طبی سہولیات حاصل ہیں،  سی این این کی اینکر بیکی اینڈرسن نے تفصیلات شیئر کردیں

سی این این کی اینکر اور پروگرام ’’سی این این کنیکٹ‘‘ کی میزبان بیکی اینڈرسن نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے سی این این کو بھیجے گئے تفصیلی جواب کو ایکس پر پوسٹ کیا ہے۔ حکومت پاکستان نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں مبینہ تنہائی، خاندان سے رابطے میں رکاوٹ، نامناسب حالات اور طبی سہولیات سے محرومی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سزا یافتہ قیدی کو جیل قواعد، عدالتی ہدایات اور سیکیورٹی تقاضوں کے مطابق ملاقات، مواصلات، خوراک، ورزش اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

حکومت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ عمران خان ایگزیکٹو حراست میں نہیں بلکہ مجاز عدالتوں کی جانب سے عدالتی کارروائی کے بعد سنائی گئی سزاؤں کے تحت قید ہیں۔ حکومت کے مطابق انہیں پاکستانی قانون کے تحت دستیاب تمام قانونی چارہ جوئی کا حق بھی حاصل ہے۔

حکومتِ پاکستان کے مطابق عمران خان کی قید پاکستان کے جیل قواعد، متعلقہ عدالتی ہدایات اور اعلیٰ سطح کے قیدی کے لیے ضروری سیکیورٹی انتظامات کے تحت ہے۔ حکومت نے ان الزامات کو قطعی طور پر مسترد کیا کہ عمران خان کو بطور سزا تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، ان کے ساتھ ظلم کیا جا رہا ہے یا انہیں بنیادی سہولیات سے محروم کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کو جیل قواعد کے مطابق ملاقاتوں، ٹیلی فون کالز، مطالعے کے مواد اور ٹیلی ویژن تک رسائی حاصل ہے، جبکہ انہیں گھر کا پکا ہوا کھانا اور ورزش کا سامان رکھنے کی بھی اجازت ہے۔ حکومت کے مطابق عمران خان کو سات سیلوں پر مشتمل ایک خصوصی کمپاؤنڈ فراہم کیا گیا ہے، جس میں سونے، صفائی اور ورزش کی سہولیات موجود ہیں۔

حکومت نے مزید بتایا کہ ان کے لیے الگ سے کھانا تیار کیا جاتا ہے، جس میں گوشت، مرغی، پھل، دودھ، خشک میوہ جات، جوس اور بوتل کا پانی شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کے لیے مناسب غذائی سہولیات موجود ہیں اور انہیں خوراک یا بنیادی ضروریات سے محروم رکھنے کا تاثر درست نہیں۔

حکومت نے عمران خان کو مکمل طور پر خاندان اور بیرونی دنیا سے الگ تھلگ رکھنے کے دعوے کو بھی سرکاری جیل ریکارڈ کی بنیاد پر مسترد کیا۔ حکومتی بیان کے مطابق قید کے دوران تقریباً ۱98 ملاقاتوں کے سیشن ریکارڈ کیے گئے، جن میں 900 سے زائد افراد کی آمد شامل ہے۔ حکومت کے مطابق ان ملاقاتوں میں عمران خان کی بہنیں، خاندان کے افراد، وکلا، ڈاکٹرز، سیاسی نمائندے اور دیگر منظور شدہ افراد شامل رہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا مشرق وسطیٰ میں بڑا بریک تھرو ہونے والا ہے؟ ایران سے متعلق ’سی این این ‘ کا بڑا دعویٰ

بیان میں مزید کہا گیا کہ عمران خان کو اپنی اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت بھی حاصل رہی اور تازہ ترین ریکارڈ شدہ ملاقات 4 اگست 2026 کو ہوئی۔ حکومت نے بتایا کہ جیل ریکارڈ میں خاندان کے افراد کے ساتھ ٹیلی فون، لینڈ لائن اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطے بھی موجود ہیں۔

بیان کے مطابق پاکستان اور بیرون ملک موجود خاندان کے افراد سے رابطہ کیا گیا، جبکہ 21 مارچ 2026 کو عمران خان کی اپنے ایک بیٹے کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو بھی ریکارڈ ہوئی۔ حکومت نے مزید کہا کہ18،19 اور 25 اگست 2026 کو عمران خان کی اپنی بہنوں سے ملاقاتیں بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

حکومت نے عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم نہ کرنے اور سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل نہ کرنے کے الزامات کو بھی مسترد کیا۔ حکومتی بیان کے مطابق قید کے دوران عمران خان کے تقریباً 30 طبی معائنے کیے گئے، جن میں ماہرین کی ٹیموں اور طبی بورڈز نے حصہ لیا۔

حکومت نے بتایا کہ ان طبی معائنوں میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، شفا انٹرنیشنل، شوکت خانم اور الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال سمیت مختلف طبی ادارے شامل رہے، جبکہ جیل کے ڈاکٹر کی جانب سے باقاعدہ معائنہ بھی کیا جاتا رہا۔ حکومت کے مطابق عمران خان میں آنکھ کے پردۂ بصارت یعنی ریٹینا سے متعلق طبی مسئلے کی تشخیص کے بعد انہیں خصوصی علاج فراہم کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ انہیں پانچ مرتبہ آنکھ کے اندر اینٹی وی ای جی ایف انجیکشن دیے گئے، جبکہ آنکھ کے پردے کی تصاویر، ادویات اور بعد ازاں طبی معائنے بھی کیے گئے۔ حکومت کے مطابق جولائی2026 اور 21 اگست 2026 کو کیے گئے ماہرین کے معائنے سمیت طبی جائزوں میں عمران خان کو ہوش و حواس میں، مستحکم اور کسی شدید یا غیر زیرِ علاج بگاڑ کے بغیر قرار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی جنگ بندی درخواست پر اچھی خبر جلد متوقع ہے: سی این این

حکومت نے اپنے مؤقف کی تائید میں عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ نیازی کے حالیہ میڈیا سے رابطے کا بھی حوالہ دیا۔ بیان کے مطابق ڈاکٹر عظمیٰ نیازی نے عمران خان کو ’’سو فیصد فٹ‘‘ قرار دیا، ان کا بلڈ پریشر 80/120بتایا اور کہا کہ ان کی آنکھ کی بیماری تقریباً مکمل طور پر ٹھیک ہو چکی ہے۔

حکومت کے مطابق ڈاکٹر عظمیٰ نیازی نے علاج کرنے والے ماہر امراض چشم کی جانب سے فراہم کیے گئے علاج کے معیار کو بھی سراہا۔ حکومت نے اسی بیان کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عظمیٰ نیازی کا مؤقف دانستہ یا منظم طبی غفلت کے الزامات کی حمایت نہیں کرتا۔

حکومت نے کہا کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات پر مکمل عملدرآمد کیا گیا۔

بیان کے مطابق عمران خان کا عدالت کی ہدایات کے مطابق طبی معائنہ کیا گیا اور متعلقہ طبی و انتظامی انتظامات کیے گئے۔ حکومت نے مزید کہا کہ طبی معائنے کے دوران عمران خان کی بہن بھی موجود تھیں۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت نے کہا کہ صحت سے متعلق معاملات کو سیاسی نہیں بنایا جانا چاہیے۔

حکومت کے مطابق اس نے عمران خان کی صحت کے معاملے پر کبھی غیر احترام پر مبنی رویہ اختیار نہیں کیا اور نہ ہی اسے سیاسی بنانے میں کوئی دلچسپی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ طبی علاج ضرورت کے مطابق جاری ہے اور ماہرین کی طبی سہولیات تک عمران خان کی رسائی ختم نہیں کی گئی۔

حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ طبی صورتحال کا جائزہ طبی ریکارڈ اور متعلقہ عدالتی ہدایات کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے، نہ کہ اسے سیاسی تنازع میں تبدیل کیا جائے۔ حکومت نے ساتھ ہی واضح کیا کہ کسی سزا یافتہ قیدی تک رسائی کو جیل کے اندر سے غیر محدود سیاسی رابطے یا سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکہ کشیدگی خاتمے کیلئے رضامند ، روسی میڈیا نے بڑا دعوی کر دیا

بیان کے مطابق جیل قواعد، عدالتی احکامات اور سیکیورٹی تقاضوں کے مطابق ملاقاتوں اور مواصلات کو منظم کرنا قیدی سے رابطہ منقطع کرنے کے مترادف نہیں۔ حکومت نے کہا کہ معاملے کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دیا گیا اور عمران خان کی حراستی صورتحال، خاندان سے رابطے اور طبی علاج سے متعلق دستاویزی ریکارڈ کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا۔

عمران خان کے بیٹوں کے پاکستان آکر والد سے ملاقات نہ کر پانے سے متعلق سوال پر حکومت نے کہا کہ دونوں کے پاس بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے قومی شناختی کارڈ، یعنی نائیکوپ، موجود ہیں۔ حکومت کے مطابق درست نائیکوپ پاکستان میں داخلے کے لیے تسلیم شدہ سفری دستاویز ہے اور دونوں جب چاہیں اس کے ذریعے پاکستان آ سکتے ہیں۔

تاہم حکومت نے واضح کیا کہ پاکستان آنے کی اہلیت اور جیل میں ملاقات کی اجازت دو الگ معاملات ہیں۔ جیل میں ملاقاتیں متعلقہ قواعد، عدالتی ہدایات اور سیکیورٹی طریقہ کار کے تابع ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے سی این این پر زور دیا کہ معاملے کی آئندہ رپورٹنگ میں مذکورہ دستاویزی حقائق کو بھی شامل کیا جائے۔

حکومت نے کہا کہ تصدیق شدہ جیل اور طبی ریکارڈ کو سیاسی طور پر متنازع الزامات سے الگ رکھتے ہوئے رپورٹ کیا جانا چاہیے۔ بیان کے مطابق عمران خان کو طبی علاج، خاندان سے رابطے اور جیل کی بنیادی و دیگر سہولیات قانون اور عدالتی احکامات کے مطابق فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ طبی علاج بھی ضرورت کے مطابق جاری ہے۔

Related Articles