اب چہرے نہیں، نظام بدلیں گے ! صدر کسان اتحاد پاکستان خالد محمود کا33 نئے صوبے بنانے کا مطالبہ

اب چہرے نہیں، نظام بدلیں گے ! صدر کسان اتحاد پاکستان خالد محمود کا33 نئے صوبے بنانے کا مطالبہ

پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی صدر خالد محمود کھوکھر نے  نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کرتے کہا ہے کہ ملک میں اب صرف چہرے نہیں بلکہ نظام بھی بدلنا ہوگا ، اب 4 کے بجائے 32 یا 33 صوبے بنائیں جائیں ۔

ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ بڑے شہر چھوٹے شہروں کا استحصال کرتے ہیں اور چھوٹے شہروں کو بجٹ میں ان کا پورا حصہ نہیں ملتا،  جنوبی پنجاب کو 35 فیصد کے بجائے صرف 12.71 فیصد بجٹ ملا۔

خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ آئین میں سب کے حقوق برابر ہیں، تاہم ملک میں مساوی سلوک نہیں کیا جا رہا ،  ہر ڈویژن کی سطح پر صوبہ بنانا ضروری ہوگیا ہے تاکہ لوگوں کو اپنے فیصلے اپنے ہاتھ میں مل سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں 2 کروڑ 7 لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ ملک کا نظام فیل ہوچکا ہے۔

بجٹ اور نظام پر سوالات

پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی صدر نے کہا کہ گزشتہ سال 18 فیصد بجٹ رکھا گیا، لیکن صرف 12 فیصد خرچ ہوا اب صوبے بنانا ناگزیر ہوچکا ہے ، انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب تعلیم اور صحت کی سہولتیں موجود نہ ہوں تو اس نظام کو کامیاب کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :وزیراعلیٰ مریم نواز کا بڑا تحفہ ، گوجرانوالہ کیلئے طویل ماس ٹرانزٹ سسٹم کی منظوری

خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ جہاں تعلیم اور صحت نہ ہو وہاں نظام فیل ہوچکا ہے، جبکہ غذائی قلت بھی سسٹم کی ناکامی ہے۔

ملک کی ترقی کسان کی ترقی سے مشروط

خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ ملک کی ترقی کسان کی ترقی سے مشروط ہے اور کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے جامع لائحہ عمل کی ضرورت ہے، زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانا وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ ہماری زراعت تباہی کے دہانے پر ہے۔

کسان اتحاد کے صدر نے کہا کہ ملک کے پاس تمام وسائل موجود ہیں، لیکن مسئلہ نظام کا ہے ، یہاں سب کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیا جا رہا ، ہر ڈویژن کی سطح پر صوبہ بنانا ضروری ہو گیا ہے ۔

editor

Related Articles