ہارورڈ ماڈل یونائیٹڈ نیشنز چائنا، 70 غیر ملکی وفود میں پاکستانی طلبہ کا راج، شاندار کامیابیوں نے ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا

ہارورڈ ماڈل یونائیٹڈ نیشنز چائنا، 70 غیر ملکی وفود میں پاکستانی طلبہ کا راج، شاندار کامیابیوں نے ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا

ہارورڈ ماڈل یونائیٹڈ نیشنز چائنا کے عالمی پلیٹ فارم پر پاکستانی طلبا نے شاندار سفارتی مہارت، قائدانہ صلاحیتوں اور تنقیدی سوچ کا لوہا منوا کر ملک کا نام روشن کر دیا ہے۔

70 سے زیادہ وفود کے مدمقابل ‘بہترین مختصر وفد’ کا اعزاز اور 5 انفرادی ایوارڈز جیت کر ان نوجوانوں نے ثابت کیا ہے کہ پاکستانی طلباء صلاحیت اور اعتماد میں دنیا میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔

چین میں منعقد ہونے والے باوقار ‘ہارورڈ ماڈل یونائیٹڈ نیشنز’ (ایچ ایم یو این) کے مباحثوں میں پاکستانی طلباء نے اپنی شاندار کارکردگی سے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی۔

رپورٹ کے مطابق اس عالمی ایونٹ میں دنیا بھر سے 70 سے زیادہ تعلیمی اداروں کے وفود نے شرکت کی۔ اس کڑے مقابلے کے دوران پاکستان کے سیڈار کالج اینڈ اسکول کی ٹیم نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی بدولت ‘بہترین مختصر وفد’ کا مایہ ناز اعزاز اپنے نام کیا۔

یہ بھی پڑھیں:طلبہ کے لئے مفت جیمینائی اے آئی پلس، گوگل کا بڑا اعلان

اسی وفد کے ہونہار طلبا نے مجموعی طور پر 5 انفرادی اعزازات بھی حاصل کیے۔ مباحثوں کے دوران بہترین دلائل دینے پر نوین راج، محمد احمد حسین اور ملیحہ علی نے بہترین مندوب کے ایوارڈز جیتے، جبکہ سلیقہ مرتضیٰ اور علیشبا وزیر کی شاندار سفارتی حکمت عملیوں کو سراہتے ہوئے انہیں ‘بہترین سفارت کار’ کے اعزاز سے نوازا گیا۔

حسام معظم کا ‘آنریبل مینشن’ اور قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف

اس عالمی میلے میں لاہور سے تعلق رکھنے والے طلبا نے بھی اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے۔ بیکن ہاؤس سکول لاہور کے طالبعلم حسام معظم نے پاکستان کی بھرپور اور موثر نمائندگی کرتے ہوئے باوقار ‘آنریبل مینشن’ ایوارڈ حاصل کیا۔

بین الاقوامی مبصرین نے حسام کی بہترین تقریری صلاحیتوں، غیر معمولی اعتماد اور پیچیدہ عالمی مسائل پر ان کی سفارتی مہارت کی کھل کر تعریف کی۔

انہوں نے مباحثوں کے دوران جس طرح تنقیدی سوچ کا مظاہرہ کیا، اس نے انہیں عالمی سطح پر ایک نمایاں مقام دلایا۔

عالمی مسائل پر پاکستانی نوجوانوں کی گونج

کانفرنس کے دوران موسمیاتی تبدیلی، عالمی امن، معاشی بحران اور انسانی حقوق جیسے سنگین عالمی مسائل پر بحث کی گئی۔

پاکستانی طلبا نے ان تمام سیشنز میں محض حصہ نہیں لیا، بلکہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے قراردادوں کی منظوری اور مختلف ممالک کے مندوبین کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی اس کارکردگی نے یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان کا مستقبل انتہائی محفوظ اور روشن ہاتھوں میں ہے۔

ہارورڈ ماڈل یونائیٹڈ نیشنز دنیا بھر کے ہائی سکول اور کالج کے طلبا کے لیے ایک انتہائی موقر بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے، جہاں وہ اقوام متحدہ کے طرز پر عالمی مسائل کا حل تلاش کرنے کی مشق کرتے ہیں۔ اس فورم پر دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں کے طلباء جمع ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی قائدانہ اور سفارتی صلاحیتوں کو پرکھتے ہیں۔

ماضی میں بھی پاکستانی طلباء بین الاقوامی مباحثوں میں کامیابیاں سمیٹتے رہے ہیں، تاہم ایک ہی ایونٹ میں اتنی بڑی تعداد میں ایوارڈز جیتنا پاکستانی نظامِ تعلیم سے وابستہ ہم نصابی سرگرمیوں کا ایک انتہائی مثبت پہلو ہے۔

مزید پڑھیں:15 سالہ پاکستانی طالبہ نے بھارتی طالب علم کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا

پاکستانی طلبا کی یہ شاندار کامیابی محض چند میڈلز یا اسناد تک محدود نہیں، بلکہ یہ عالمی برادری کے لیے ایک انتہائی طاقتور پیغام ہے۔

ایسے وقت میں جب بین الاقوامی سطح پر اکثر پاکستان کو محض معاشی یا سیاسی بحرانوں کے حوالے سے زیرِ بحث لایا جاتا ہے، ان نوجوانوں نے ملک کا ایک مثبت، پڑھا لکھا اور پر اعتماد چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

یہ کامیابی اس بات کی بھی غماز ہے کہ پاکستانی نوجوانوں میں ‘سافٹ سکلز’ یعنی بات چیت کرنے کا فن، تنقیدی سوچ اور سفارتی شعور تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔

اگر حکومت اور نجی تعلیمی ادارے مل کر ماڈل یو این اور دیگر مباحثوں کے کلچر کو نچلی سطح پر سرکاری سکولوں تک بھی فروغ دیں، تو کوئی شک نہیں کہ پاکستان مستقبل میں عالمی سطح پر بہترین سفارت کار، لیڈرز اور پالیسی ساز پیدا کر سکتا ہے۔

ان طلبا نے ثابت کر دیا ہے کہ وسائل کی کمی کے باوجود اگر مواقع فراہم کیے جائیں، تو پاکستانی ذہن دنیا کو مسخر کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

Related Articles