مستحقین دیکھتے رہ گئے، بینظر انکم اسپورٹ پروگرام میں عیاشیوں کی نئی داستان منظر عام پر آگئی

مستحقین دیکھتے رہ گئے، بینظر انکم اسپورٹ پروگرام میں عیاشیوں کی نئی داستان منظر عام پر آگئی

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں بیوروکریسی کی شاہ خرچیوں کا پردہ چاک ہو گیا ہے، جہاں گزشتہ 5 برسوں میں زیرِ استعمال 75 سرکاری گاڑیوں نے 8 لاکھ 10 ہزار لیٹر سے زیادہ ایندھن استعمال کر کے ریکارڈ قائم کردیا۔

پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی باضابطہ دستاویزات کے مطابق اس ایندھن کی مد میں قومی خزانے سے کروڑوں روپے کے اخراجات حاصل کیے گئے ہیں۔

پارلیمانی دستاویزات کے مطابق’بی آئی ایس پی’ کے تحت ملک بھر میں مجموعی طور پر 75 سرکاری گاڑیاں بیوروکریسی کے زیرِ استعمال ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق وفاقی وزیر نے بڑا اعلان کردیا

ان گاڑیوں کی علاقائی تقسیم کی تفصیلات کے مطابق ہیڈ کوارٹرز میں 28، پنجاب میں 12، سندھ میں 17، خیبر پختونخواہ میں 7، بلوچستان میں 6، جبکہ آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں 5 گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان تمام گاڑیوں نے گزشتہ 5 سال کے عرصے میں مجموعی طور پر 8 لاکھ 10 ہزار لیٹر سے زیادہ ایندھن استعمال کیا، جس کی مجموعی مالیت کروڑوں، اربوں روپے بنتی ہے۔

صوبائی اور علاقائی بنیادوں پر ایندھن کے اخراجات

رپورٹ میں خطوں کی بنیاد پر ایندھن کے استعمال کی علیحدہ تفصیلا ت بھی فراہم کی گئی ہیں۔ اسلام آباد ریجن کی گاڑیوں نے 5 سال میں 402,400 لیٹر ایندھن استعمال کیا۔

اس کے مقابلے میں پنجاب ریجن کی گاڑیوں کا استعمال 100,788 لیٹر رہا، جبکہ سندھ ریجن کی گاڑیوں نے اس عرصے میں ریکارڈ 1,828,850 لیٹر فیول کی مد میں خرچ کیا۔ ان شاہ خرچیوں کے باعث قومی خزانے پر انتہائی بھاری مالی بوجھ پڑا ہے۔

مزید پڑھیں:بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے ڈیجیٹل والٹ سے متعلق اہم ہدایت

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا قیام بنیادی طور پر ملک کے غریب اور انتہائی مستحق طبقے کو معاشی سہارا دینے کے مقصد سے عمل میں لایا گیا تھا تاکہ انہیں بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

تاہم حالیہ کچھ عرصے کے دوران پروگرام کے انتظامی اخراجات، افسر شاہی کی مراعات اور گاڑیوں کے بے دریغ استعمال پر بارہا سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ اعتراض مسلسل سامنے آتا رہا ہے کہ غریبوں کے نام پر قائم کیے گئے اداروں کے وسائل کا ایک بڑا حصہ بیوروکریسی کے شاہانہ اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے۔

یہ رپورٹ اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ پاکستان میں سماجی تحفظ کے اداروں میں انتظامی اصلاحات اور شفافیت کی شدید ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اربوں روپے کی رقوم کی منتقلی سے متعلق آڈٹ اعتراضات سامنے آگئے

ایک طرف جہاں عام شہری اور مستحقین چند ہزار روپے کی سہ ماہی امداد کے لیے قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں اور شدید مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، وہاں دوسری طرف ادارے کا نظم و نسق سنبھالنے والی بیوروکریسی کے لیے کروڑوں روپے کے ایندھن کی فراہمی سنگین انتظامی بے حسی کو ظاہر کرتی ہے۔

سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر کسی سخت مانیٹرنگ اور فیول کوٹا پالیسی کا نہ ہونا اس بے تحاشا استعمال کی بنیادی وجہ ہے۔

اگر حکومت معاشی بحران سے نمٹنے اور عوامی اعتماد کو بحال کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے ‘بی آئی ایس پی’ جیسے حساس اور عوامی فلاحی اداروں میں فوری طور پر ایندھن کے سخت کنٹرول کا طریقہ کار وضع کرنا ہوگا۔

وگرنہ غریبوں کے نام پر ان کی بہتری کے لیے فراہم کی جانے والی رقوم کا ایک بڑا حصہ یوں ہی افسر شاہی کی گاڑیوں کی ٹینکیوں میں جلتا رہے گا۔

Related Articles