صوبہ خیبر پختونخوا کے دارلحکومت پشاور میں پولیس مقابلے کے دوران 3 صوبوں اور وفاقی دارالحکومت کو انتہائی مطلوب ڈکیت گینگ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق اس کارروائی میں گینگ کے سرغنہ ‘وقار’ سمیت 4 خطرناک ڈاکو ہلاک جبکہ 2 فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
یہ گروہ گزشتہ 15 سالوں سے سیکیورٹی اہلکاروں کا روپ دھار کر سنگین وارداتوں میں ملوث تھا۔
پشاور پولیس نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے منظم جرائم میں ملوث ایک انتہائی خطرناک گینگ کا صفایا کر دیا ہے۔
سی سی پی او پشاور، ڈاکٹر میاں سعید نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کی گئی، جس کے دوران ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی۔
یہ بھی پڑھیں:پشاور میں تاریخی ڈکیتی، باوردی مسلح افراد تاجر کے گھر سے 143 تولے سونا اور 10 لاکھ نقدی لے اڑے
جوابی فائرنگ کے نتیجے میں 4 بدنام زمانہ ڈاکو موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جن میں گینگ کا سرغنہ انتہائی مطلوب ڈکیت ‘وقار’ بھی شامل ہے۔
تاہم تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گینگ کے 2 ارکان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
واردات کا انوکھا اور ہائی ٹیک طریقہ کار
ہلاک ہونے والے ملزمان وارداتوں کے لیے انتہائی جدید اور ہوشیاری پر مبنی طریقہ کار استعمال کرتے تھے۔
سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید کے ہوشربا انکشافات کے مطابق یہ گینگ مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز سے مشابہہ لباس اور آلات استعمال کرتا تھا۔
ملزمان جدید اسلحہ، وائرلیس سیٹس، دیگر مواصلاتی آلات اور یہاں تک کہ ‘وائی فائی جیمرز’ سے بھی لیس ہوتے تھے تاکہ واردات کے دوران کوئی شخص پولیس یا اہلخانہ سے رابطہ نہ کر سکے۔
یہ ملزمان خود کو خفیہ اداروں یا سیکیورٹی اہلکاروں کے طور پر ظاہر کرتے اور ‘سرچ آپریشن’ یا تلاشی کے بہانے گھروں میں داخل ہوتے تھے۔
ایک بار اندر داخل ہونے کے بعد وہ اہلخانہ کو یرغمال بنا کر نقدی، سونا اور دیگر قیمتی سامان لوٹ کر باآسانی فرار ہو جاتے تھے۔
جرائم کا وسیع نیٹ ورک اور ماضی کا ریکارڈ
یہ کوئی عام گینگ نہیں تھا بلکہ یہ پچھلے 15 سالوں سے منظم جرائم کی دنیا میں سرگرم تھا۔ پولیس حکام کے مطابق اس گینگ کا نیٹ ورک خیبر پختونخوا کے علاوہ پنجاب، سندھ اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد تک پھیلا ہوا تھا، جہاں انہوں نے درجنوں سنگین وارداتیں کیں۔
حیران کن طور پر گینگ کے ارکان مختلف مقدمات میں 12 سے زیادہ مرتبہ نامزد اور گرفتار بھی ہو چکے تھے، لیکن ہر بار قانونی سقم کا فائدہ اٹھا کر دوبارہ متحرک ہو جاتے تھے۔
مزید پڑھیں: ڈسکوز نجکاری، کے-الیکٹرک نجکاری کے عمل بارے تمام تفصیلات طلب کر لی گئیں
حالیہ چند برسوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں بالخصوص خیبر پختونخوا اور پنجاب میں ایسے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں جرائم پیشہ عناصر نے پولیس، حساس اداروں یا سیکیورٹی فورسز کی وردیوں کا استعمال کر کے شہریوں کو لوٹا۔
اس طریقہ واردات سے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا تھا بلکہ عام شہریوں میں شدید خوف و ہراس بھی پھیل چکا تھا۔
لوگ اپنے گھروں میں بھی خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے تھے کیونکہ وردی میں ملبوس افراد پر شک کرنا عام شہری کے لیے انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اس گینگ کی سرگرمیاں پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکی تھیں۔
پشاور پولیس کی جانب سے اس ‘انٹر پراونشل’ گینگ کا خاتمہ بلاشبہ ایک بڑی کامیابی ہے جس پر قانون نافذ کرنے والے ادارے ستائش کے مستحق ہیں۔
وائی فائی جیمرز اور جدید مواصلاتی آلات سے لیس گروہ کا پکڑا جانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس کو بھی اپنے تفتیشی اور آپریشنل نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔
تاہم اس خبر کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ گینگ 15 سال سے سرگرم تھا اور اس کے ارکان 12 سے زیادہ مرتبہ گرفتار ہونے کے باوجود باہر آ کر دوبارہ وارداتیں کرنے لگتے تھے۔
مزید پڑھیں:حکمران اتحاد جو آئینی ترامیم لا رہا ہےیہ کل انہی کے گل پڑے گی۔رہنما پی ٹی آئی نعیم حیدر پنجوتہ


