وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) میں بڑے پیمانے پر انتظامی و طبی ردوبدل کرتے ہوئے متعدد افسران کو اہم عہدوں کے اضافی چارجز تفویض کر دیے گئے ہیں۔
اس حوالے سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن کے تحت ڈاکٹر محمد سلمان کو اسپتال کا نیا ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کر دیا گیا ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے انتظامی و طبی امور میں جدت اور بہتری لانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ڈاکٹر محمد سلمان کی خدمات ڈیپوٹیشن پر پمز کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
انہیں گریڈ 21 میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کے اہم عہدے پر 3 سال کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ اپنی موجودہ ذمہ داری یعنی چیف ایگزیکٹو آفیسر، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کے فرائض بھی انجام دیتے رہیں گے۔
جب تک این آئی ایچ میں مستقل بنیادوں پر کوئی متبادل انتظام نہیں ہو جاتا، سی ای او کا اضافی چارج انہی کے پاس رہے گا۔
چلڈرن اسپتال اور شعبہ گائنی میں اہم تبدیلیاں
اسپتال کے حساس ترین سمجھے جانے والے شعبوں میں بھی ذمہ داریاں تبدیل کی گئی ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، گریڈ 20 کی پروفیسر آف پیڈیاٹرکس، ڈاکٹر نزہت یاسمین کو جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر چلڈرن اسپتال (گریڈ 20) کا اضافی چارج 3 ماہ کے لیے تفویض کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح پمز پیڈیاٹرکس کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر رحمانہ وارث کو چلڈرن اسپتال میں ایسوسی ایٹ پروفیسر پیڈیاٹرکس کا اضافی چارج بھی 3 ماہ کے لیے دیا گیا ہے۔
زچہ و بچہ سینٹر (ایم سی ایچ) میں بھی ردوبدل دیکھنے میں آیا ہے۔ شعبہ گائنی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شمائلہ کو پروفیسر اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ گائنی (گریڈ 20) کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے جو 3 ماہ یا اگلے احکامات تک جاری رہے گا۔ مزید برآں، پیڈیاٹرکس کی میڈیکل آفیسر ڈاکٹر امینہ کو شعبہ گائنی میں سینیئر رجسٹرار کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔
انتظامی اور سیکیورٹی امور کے نئے نگران
اسپتال کے غیر طبی اور انتظامی امور کو سنبھالنے کے لیے بھی عارضی تقرریاں کی گئی ہیں۔ ای این ٹی کے پروفیسر ڈاکٹر الطاف حسین (گریڈ 20) کو جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نان میڈیکل کے عہدے کا اضافی چارج 3 ماہ یا مستقل افسر کی تعیناتی تک دے دیا گیا ہے۔
دوسری جانب، شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے اسسٹنٹ رجسٹرار حسن اشرف (گریڈ 17) کو اپنی موجودہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ پمز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی (گریڈ 17) کا اضافی چارج بھی تفویض کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ان تمام اضافی ذمہ داریوں کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
وفاقی دارالحکومت میں واقع پمز اسپتال نہ صرف اسلام آباد بلکہ پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے آنے والے ہزاروں مریضوں کی روزانہ کی بنیاد پر دیکھ بھال کرتا ہے۔
اتنے بڑے دباؤ کے باوجود، اسپتال ایک طویل عرصے سے مستقل انتظامی سربراہوں اور سینیئر عہدیداروں کی کمی کا سامنا کر رہا ہے۔
ماضی میں بھی اسپتال کا نظام چلانے کے لیے افسران کو ایک سے زیادہ عہدوں کے اضافی چارجز دیے جاتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے اکثر اوقات انتظامی امور میں سست روی اور فیصلہ سازی میں تاخیر جیسے مسائل جنم لیتے رہے ہیں۔
پمز میں ہونے والی یہ تازہ ترین انتظامی سرجری ایک طرف تو فوری طور پر خالی آسامیوں کو پُر کرنے کی کوشش نظر آتی ہے، لیکن دوسری طرف یہ ملکی صحت کے نظام میں رائج ’ایڈہاک ازم‘ (عارضی انتظامات) کی خامیوں کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔
اسپتال کے اعلیٰ ترین عہدے، یعنی ایگزیکٹو ڈائریکٹر پر تعینات ہونے والے افسر کو این آئی ایچ جیسے بڑے اور حساس ادارے کا چارج بھی سونپنا بذات خود ایک سوالیہ نشان ہے۔
ایک افسر کے لیے بیک وقت دو بڑے وفاقی اداروں کے ساتھ انصاف کرنا انسانی طور پر انتہائی مشکل ہے، جس کا براہ راست اثر اسپتال کی گورننس پر پڑ سکتا ہے۔
مزید برآں اہم طبی اور غیر طبی شعبوں (جیسے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ گائنی اور سیکیورٹی ڈائریکٹر) کو محض 3 ماہ کے اضافی چارج پر چلانے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ محکمے کے پاس مستقل بنیادوں پر قابل افسران کی کمی ہے یا پھر فیصلہ سازی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔
عارضی بنیادوں پر تعینات ہونے والے افسران عموماً طویل مدتی پالیسیاں بنانے سے گریز کرتے ہیں اور ان کی تمام تر توجہ صرف وقتی طور پر نظام کو چلانے پر مرکوز ہوتی ہے۔
حکومت اور وزارت صحت کو چاہیے کہ اسپتال کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان اضافی چارجز کی مدت ختم ہونے سے قبل میرٹ پر مستقل اور کل وقتی تعیناتیاں یقینی بنائیں تاکہ مریضوں کو درپیش مسائل کا پائیدار حل نکالا جا سکے۔