لاہور میں سوئی گیس کی قلت اور کم پریشر نے شہریوں کی روزمرہ زندگی مشکل بنا دی ہے ، گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑنے لگے تو شہری متبادل کے طور پر ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں، مگر یہاں بھی انہیں ریلیف کے بجائے مہنگائی کا سامنا ہے۔
میڈیا ر پورٹس کے مطابق لاہور کے مختلف علاقوں میں سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر ایل پی جی فروخت ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے ۔
شہر کے مختلف علاقوں میں گیس کی عدم دستیابی کے باعث ایل پی جی کی طلب بڑھ گئی ہے، تاہم دکانداروں کی جانب سے سرکاری نرخوں کو نظر انداز کرتے ہوئے من مانے دام وصول کیے جارہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگست کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 254 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، لیکن لاہور کی مارکیٹ میں یہی گیس تقریباً 450 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف گھریلو گیس دستیاب نہیں، دوسری جانب ایل پی جی خریدنا بھی ان کے بجٹ پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے۔
ایل پی جی کی قیمت میں سرکاری اور مارکیٹ نرخ کے درمیان نمایاں فرق نے بھی شہریوں کی تشویش بڑھا دی ہے۔
گیس کی طلب میں اضافے کے ساتھ اگر مارکیٹ میں قیمتوں پر مؤثر نگرانی نہ ہوئی تو گھریلو صارفین کے لیے حالات مزید مشکل ہوسکتے ہیں۔
شہریوں کا انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ
متاثرہ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سوئی گیس کی قلت اور کم پریشر کا فوری نوٹس لیا جائے، ان کا کہنا ہے کہ گیس کی بنیادی سہولت دستیاب نہ ہونے کی صورت میں متبادل ایندھن کی قیمت بھی قابو سے باہر نہیں ہونی چاہیے۔
شہریوں نے ایل پی جی کو سرکاری نرخ سے زائد قیمت پر فروخت کرنے کی شکایات کی بھی تحقیقات اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔