جے یو آئی (ف) اور ٹی ٹی پی کے براہِ راست روابط بے نقاب کرنے کے بعد سینیئر صحافی و تجزیہ کار عقیل یوسفزئی کی جان کو خطرہ

جے یو آئی (ف) اور ٹی ٹی پی کے براہِ راست روابط بے نقاب کرنے کے بعد سینیئر صحافی و تجزیہ کار عقیل یوسفزئی کی جان کو خطرہ

جمعیت علمائے اسلام (ف)، افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے روابط سے متعلق حالیہ دعووں کے بعد ایک نیا تنازع سامنے آیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان بیانات پر سخت ردعمل کے بعد عقیل یوسفزئی کی جان کو خطرے کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

نیوز ایجنسی ڈسپیچ نیوز ڈیسک (ڈی این ڈی) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صحافت طویل عرصے سے ایک مشکل اور خطرات سے بھرپور شعبہ تصور کی جاتی رہی ہے، جہاں صحافیوں کو مالی دباؤ کے ساتھ ساتھ سیاسی اثر و رسوخ، غیر ریاستی عناصر، شدت پسند گروہوں اور مختلف طاقتور حلقوں کی جانب سے دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایسے ہی صحافیوں میں خیبرپختونخوا کے ضلع سوات سے تعلق رکھنے والے عقیل یوسفزئی بھی شامل ہیں، جو کئی برسوں سے افغانستان، دہشت گردی، پاک افغان تعلقات اور سرحدی سکیورٹی کے معاملات پر لکھتے اور تجزیہ پیش کرتے آئے ہیں۔

افغانستان اور علاقائی سلامتی پر عقیل یوسفزئی کی توجہ

عقیل یوسفزئی کی صحافتی اور تجزیاتی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال کے گرد گھومتا رہا ہے۔

ان کی کتاب (War Theatre)میں بھی پاکستان اور خطے کو درپیش عسکریت پسندی، سیاسی عدم استحکام، سرحد پار حملوں، شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں اور دیگر اہم سکیورٹی چیلنجز کا جائزہ لیا گیا ہے۔

حالیہ عرصے میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور پاکستانی سیاسی و مذہبی حلقوں کے درمیان مبینہ روابط کے بارے میں مختلف دعوے کیے ہیں، جن کے بعد معاملہ سیاسی اور صحافتی حلقوں میں زیر بحث آیا۔

مولانا فضل الرحمان اور ملا ہبت اللہ کی گفتگو سے متعلق دعویٰ

ایک حالیہ انٹرویو میں عقیل یوسفزئی نے دعویٰ کیا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور افغان طالبان کے امیر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کے درمیان ہونے والی ایک گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے افغان طالبان کے سربراہ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ انہیں پاکستان سے زیادہ افغانستان کے مفادات عزیز ہیں اور وہ انہیں پہلے ترجیح دیتے ہیں۔

یہ ایک سنگین نوعیت کا دعویٰ ہے اور اس کے سیاسی اور سفارتی اثرات بھی ہوسکتے ہیں۔ تاہم اسے عقیل یوسفزئی سے منسوب ایک دعوے کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے اور اس کی آزادانہ اور قابل تصدیق شواہد کی بنیاد پر جانچ ضروری ہے۔

افغان طالبان کی پالیسیوں پر تنقید

عقیل یوسفزئی نے اپنے انٹرویو میں افغان طالبان کی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے پاکستان میں جاری دہشت گردی اور سکیورٹی فورسز کو ہونے والے جانی نقصانات کے تناظر میں سوال اٹھایا کہ پاکستانی سیاسی شخصیات کو افغان طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات اور اپنی پوزیشن کی وضاحت کرنی چاہیے۔

ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ علاقائی حالات میں افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور پاکستان میں دہشت گردی کے مسئلے پر سیاسی جماعتوں اور مذہبی رہنماؤں کے مؤقف کو واضح ہونا چاہیے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاک افغان سرحد اور دہشت گردی کا معاملہ پاکستان کی داخلی سلامتی کے اہم ترین موضوعات میں شامل ہے۔

جے یو آئی (ف) اور ٹی ٹی پی کے روابط

عقیل یوسفزئی نے جے یو آئی (ف) اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مبینہ نظریاتی اور تنظیمی روابط کے معاملے پر بھی بات کی۔

ان کے مطابق ٹی ٹی پی کی قیادت میں شامل بعض اہم شخصیات ماضی میں جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ رہی ہیں۔

تاہم کسی فرد یا شخصیت کی سابق سیاسی یا مذہبی وابستگی کو موجودہ دور میں براہ راست تنظیمی تعاون یا عملی تعلق کا ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ایسے کسی بھی دعوے کو ثابت کرنے کے لیے الگ، مستند اور قابل تصدیق شواہد درکار ہوتے ہیں۔

سرحدی علاقوں میں غیر قانونی نیٹ ورکس کا معاملہ

عقیل یوسفزئی گزشتہ کچھ عرصے سے پاک افغان سرحد کے اطراف سرگرم مبینہ غیر قانونی نیٹ ورکس پر بھی گفتگو کرتے رہے ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ بعض جرائم پیشہ عناصر، اسمگلرز، شدت پسند گروہوں اور بااثر حلقوں کے درمیان ایک ایسا گٹھ جوڑ موجود ہے جو بڑے پیمانے پر غیر قانونی تجارت اور اسمگلنگ سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

متعلقہ رپورٹ میں اس مبینہ غیر قانونی کاروبار کا حجم سالانہ تقریباً **3,600 ارب روپے** بتایا گیا ہے۔ تاہم اس رقم کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے اور اسے حتمی یا ثابت شدہ اعداد و شمار کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔

عقیل یوسفزئی کے خلاف سخت ردعمل

اصل رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ جے یو آئی (ف) سے وابستہ بعض حلقوں کی جانب سے عقیل یوسفزئی کے بیانات پر سخت ردعمل سامنے آیا۔

رپورٹ کے مطابق ان کے خلاف سخت زبان استعمال کی گئی، مختلف الزامات لگائے گئے اور انہیں ریاست مخالف صحافی قرار دینے جیسے بیانات بھی سامنے آئے۔

اسی صورتحال کے پس منظر میں عقیل یوسفزئی کی ذاتی سلامتی کے بارے میں تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں یہ شکایت بھی کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت اور ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے عقیل یوسفزئی کے خلاف دھمکی آمیز بیانات اور ان کی جان کو خطرے سے متعلق خدشات پر خاطر خواہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

صحافیوں کی سلامتی کا معاملہ محض سیاسی اختلاف تک محدود نہیں رہتا۔ اگر کسی صحافی کو حقیقی اور قابل اعتبار خطرات لاحق ہوں تو متعلقہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان خطرات کا جائزہ لیں اور ضرورت کے مطابق تحفظ فراہم کریں۔

الزامات اور دعووں کی تحقیقات کی ضرورت

معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے عقیل یوسفزئی کو مبینہ طور پر دی جانے والی دھمکیوں کی باقاعدہ تحقیقات ضروری ہیں۔

پس منظر

پاکستان میں صحافیوں کو ماضی میں بھی دہشت گردی، سیاسی تنازعات، جرائم اور طاقتور گروہوں سے متعلق رپورٹنگ کے دوران دباؤ اور خطرات کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔ خیبرپختونخوا اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی سے متعلق رپورٹنگ کو خصوصاً حساس تصور کیا جاتا ہے۔

کسی صحافی کے تجزیے یا مؤقف سے اختلاف ایک جائز سیاسی اور جمہوری حق ہے، تاہم اختلاف کا جواب دھمکی یا تشدد نہیں ہونا چاہیے۔ اگر عقیل یوسفزئی یا کسی بھی دوسرے صحافی کی جان کو حقیقی خطرہ لاحق ہو تو معاملے کی شفاف تحقیقات اور مناسب سکیورٹی کی فراہمی ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

Related Articles