سینئر صحافی اور تحزیہ کار عقیل احمد یوسفزئی نے انکشاف کیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے بعض اہم رہنما ماضی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) اور فضل الرحمان کی جماعت سے وابستہ رہے ہیں۔
عقیل احمد یوسفزئی کا کہنا ہے کہہ ٹی ٹی پی کے بانی رہنماؤں میں شامل بیت اللہ محسود وزیرستان میں جے یو آئی کے عہدیدار رہ چکے تھے، جبکہ حکیم اللہ محسود کی نظریاتی وابستگی بھی مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کے ساتھ رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمر خالد خراسانی، جنہوں نے بعد میں جماعت الاحرار قائم کی، بھی ماضی میں مولانا فضل الرحمان کی جماعت کا حصہ رہ چکے تھے۔
سینئر صحافی نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں عمران خان اور مولانا فضل الرحمان نے اسٹیبلشمنٹ پر سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے مختلف حکمت عملیاں اختیار کیں۔ ان کے بقول دونوں رہنماؤں کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اگر انہیں سیاسی معاملات میں حصہ دار نہ بنایا گیا تو خیبرپختونخوا، بلوچستان اور بالخصوص سابق فاٹا کے بعض علاقوں میں افغانستان کے طالبان ماڈل کو بنیاد بنا کر ایک نئی تحریک شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔
عقیل احمد یوسفزئی نے کہا کہ بعد میں مولانا فضل الرحمان کی جماعت کو حکومت میں حصہ دیا گیا، تاہم موجودہ سیاسی حالات میں محمود خان اچکزئی سمیت بعض دیگر سیاسی رہنما ایک مرتبہ پھر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا ستمبر میں بھارت جانے کا پروگرام تھا، جہاں ان کی بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں متوقع تھیں۔
عقیل احمد یوسفزئی کے مطابق موجودہ سیاسی صورتحال میں پی ٹی آئی اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان قربت بڑھنے کے باعث سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 27 ستمبر کو کسی لانگ مارچ یا بڑی سیاسی تحریک کا آغاز ہوتا ہے تو اس کے بعد اکتوبر میں مولانا فضل الرحمان کے ممکنہ دورۂ بھارت سے متعلق صورتحال مزید واضح ہوسکتی ہے،عقیل احمد یوسفزئی کو ٹی ٹی پی اور جے یو آئی اور فضل الرحمان کے روابط بے نقاب کرنے کے بعد اب ان کی جان کو بھی خطرہ ہے ۔