آسٹریلیا میں ایک خاتون کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش کے بعد ایسا غیر معمولی معاملہ سامنے آیا جس نے طبی اور قانونی ماہرین کی توجہ حاصل کرلی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ریاست کوئنز لینڈ میں گزشتہ برس نومبر میں ایک خاتون نے ایک لڑکے اور ایک لڑکی کو جنم دیا۔ خاتون نے ایک جوڑے کے لیے سروگیٹ کے طور پر حمل اٹھایا تھا، تاہم بعد میں ڈی این اے ٹیسٹ نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق خاتون ایک دوسرے جوڑے کے ایمبریو کی منتقلی کے لیے ہونے والے علاج کے دوران غیر متوقع طور پر حاملہ ہوگئیں۔ حمل کے دوران الٹراساؤنڈ سے معلوم ہوا کہ ان کے ہاں جڑواں بچے ہیں۔ بعد ازاں ڈی این اے ٹیسٹ میں انکشاف ہوا کہ دونوں بچوں کے حیاتیاتی والدین ایک جیسے نہیں۔ لڑکا خود سروگیٹ خاتون کا حیاتیاتی بچہ تھا، جبکہ لڑکی اس جوڑے کے ایمبریو سے پیدا ہوئی تھی جن کے لیے وہ سروگیٹ بنی تھیں۔
یہ معاملہ آسٹریلیا کے قوانین کے تحت بھی غیر معمولی قرار پایا کیونکہ کوئنزلینڈ کے موجودہ سروگیسی قوانین میں ایسی صورتحال کے لیے واضح رہنمائی موجود نہیں۔ دونوں بچوں کو پیدائش کے بعد الگ الگ خاندانوں نے پالا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ تقریباً 9 ماہ سے دونوں خاندان اپنے اپنے بچے کی پرورش کر رہے ہیں اور اس معاملے پر ان کے درمیان کوئی تنازع بھی نہیں ہے۔
تاہم قانونی پیچیدگی کے باعث یہ معاملہ کوئنزلینڈ کی بچوں کی عدالت تک پہنچا۔ بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا دونوں بچوں کو قانونی طور پر بہن بھائی تصور کیا جائے گا اور کیا انہیں ایک دوسرے سے الگ رکھا جاسکتا ہے۔ کوئنزلینڈ کی عدالت کی جج جوڈی وولڈریج نے فیصلے میں قرار دیا کہ قانونی طور پر دونوں بچے پیدائش کے اعتبار سے بہن بھائی نہیں ہیں، اگرچہ انہوں نے حمل کے دوران ایک ساتھ نشوونما پائی۔ عدالت نے دونوں بچوں کی علیحدہ ولدیت کو تسلیم کرلیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق دونوں خاندانوں نے رواں برس کے آغاز میں ایک وکیل کی خدمات حاصل کی تھیں تاکہ عدالت کے سامنے اس منفرد صورتحال سے متعلق رپورٹ پیش کی جاسکے۔ وکیل نے دستیاب سائنسی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس حوالے سے حتمی طور پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ پیدائش کے بعد ایسے جڑواں بچوں کو الگ رکھنے سے لازماً ان کی نفسیاتی صحت پر منفی اثر پڑے گا۔
اس نوعیت کا ایک ملتا جلتا واقعہ 2017 میں امریکی ریاست کیلیفورنیا میں بھی سامنے آیا تھا۔ وہاں جیسیکا ایلن نامی خاتون نے اپنے بچے کے ساتھ سروگیسی کے ذریعے دوسرے جوڑے کے بچے کو بھی جنم دیا تھا، جس کے بعد بچوں کی تحویل کے معاملے پر طویل قانونی جنگ لڑی گئی تھی۔
آسٹریلیا کا یہ کیس اس حوالے سے غیر معمولی ہے کہ ایک ہی حمل میں پیدا ہونے والے جڑواں بچوں کے حیاتیاتی والدین مختلف ہیں اور عدالت کو ان کی قانونی حیثیت کا تعین کرنا پڑا۔