امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران کو معاشی طور پر مکمل تنہا کرنے کے لیے چین پر پابندیاں عائد کرنے سمیت تمام آپشنز پر غور کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر امریکا اپنی مالیاتی طاقت کا بھرپور استعمال کرے گا اور رواں ہفتے مزید ایک ایرانی بینک پر پابندیاں متوقع ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے میڈیا نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ واشنگٹن، ایران کی معاشی لائف لائن کو کاٹنے کے لیے اپنے اقدامات مزید تیز کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا رواں ہفتے ایک اور اہم ایرانی بینک پر کڑی پابندیاں عائد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال نے تقاضا کیا تو واشنگٹن ایران کے خلاف اپنی بے پناہ مالیاتی طاقت کا بے دریغ استعمال کرے گا تاکہ عالمی معیشت اور منڈیوں تک اس کی رسائی کو ناممکن بنایا جا سکے۔
‘جی 20’ اجلاس اور اہم مذاکرات کی تیاری
مستقبل کے لائحہ عمل اور ‘جی 20’ کے آئندہ ہونے والے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے سکاٹ بیسنٹ نے انکشاف کیا کہ اس اعلیٰ سطح کے فورم پر امریکی حکام اپنے چینی ہم منصبوں کے ساتھ ایران اور چین کے بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات پر دو ٹوک بات چیت کریں گے۔ یہ مذاکرات عالمی سیاست اور معیشت کے تناظر میں انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں۔
چین بطور سب سے بڑا تجارتی شراکت دار
واضح رہے کہ چین اس وقت ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے خام تیل کا سب سے اہم اور بڑا خریدار بھی ہے، جو ایرانی معیشت کو سہارا دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کے ساتھ اسی گہرے تجارتی تعلق کی بنیاد پر بیجنگ کے خلاف براہ راست یا ثانوی پابندیوں سمیت تمام دستیاب آپشنز واشنگٹن کے زیرِ غور ہیں۔
ایران پر امریکی پابندیوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ حالیہ برسوں میں، خاص طور پر 2018 میں امریکا کے عالمی جوہری معاہدے سے یکطرفہ انخلا کے بعد، واشنگٹن نے تہران پر ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔
ان پابندیوں کا بنیادی ہدف ایران کی تیل کی برآمدات کو صفر تک لانا اور اسے عالمی مالیاتی نظام یعنی ‘سوئفٹ’ سے کاٹنا ہے۔
تاہم چین نے امریکی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایران کے ساتھ اربوں ڈالر کے طویل المدتی اسٹریٹجک اور تجارتی معاہدے کیے ہیں۔
بیجنگ مسلسل رعایتی قیمتوں پر ایرانی تیل خرید رہا ہے، جس نے امریکی پابندیوں کے اثرات کو خاصا کمزور کر دیا ہے اور ایران کو مکمل معاشی تباہی سے بچائے رکھا ہے۔
سکاٹ بیسنٹ کا یہ حالیہ بیان عالمی سطح پر ایک نئی اور خطرناک معاشی محاذ آرائی کی نشاندہی کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکا کے لیے چین پر براہِ راست اور سخت پابندیاں عائد کرنا کوئی آسان فیصلہ نہیں ہوگا، کیونکہ چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے اور ایسی کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں خود امریکی معیشت اور عالمی سپلائی چین کو شدید جھٹکا لگ سکتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ کا یہ انتباہ دراصل بیجنگ پر ایک سفارتی اور نفسیاتی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی نظر آتی ہے تاکہ ‘جی 20’ اجلاس سے قبل چین کو مذاکرات کی میز پر دفاعی پوزیشن پر لایا جا سکے۔
اگر امریکا نے واقعی چین پر ثانوی پابندیوں کا نفاذ کیا تو اس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھے گی بلکہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان جاری تجارتی جنگ میں بھی ایک نیا اور تباہ کن باب کھل جائے گا جس کے اثرات پوری دنیا محسوس کرے گی۔