ہیرا صرف قیمتی زیور ہی نہیں بلکہ سائنس کی دنیا میں بھی ایک نئی حیرت کا سبب بن گیا ہے۔ محققین نے دریافت کیا ہے کہ انتہائی پتلی اور لچکدار ہیرے کی جھلی کو موڑنے پر اس میں برقی وولٹیج پیدا ہوسکتا ہے۔
ہانگ کانگ یونیورسٹی کے محققین کی اس دریافت نے ہیرے سے متعلق ایک طویل عرصے سے قائم سائنسی تصور کو چیلنج کردیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں ہیرے سے بنے سینسرز، چھوٹے توانائی کے نظام اور خودکار طبی امپلانٹس کی تیاری میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
تحقیق کی قیادت ہانگ کانگ یونیورسٹی کے شعبہ الیکٹریکل اینڈ کمپیوٹر انجینئرنگ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر زیکن چو اور شعبہ مکینیکل انجینئرنگ کے پروفیسر یوآن لن نے کی۔
سائنس کی دنیا میں ہیرے کو طویل عرصے سے نان پیزو الیکٹرک مواد سمجھا جاتا رہا ہے۔ یعنی عام حالات میں یہ تصور کیا جاتا تھا کہ ہیرا میکانی دباؤ یا خم کی صورت میں قابل ذکر برقی وولٹیج پیدا نہیں کرسکتا۔
محققین نے اس مفروضے کو جانچنے کے لیے ایک جدید طریقے سے ہیرے کو انتہائی باریک تہوں میں تبدیل کیا۔ اس عمل کے ذریعے ایسی پولی کرسٹل لائن ہیرے کی جھلی تیار کی گئی جو عام ہیرے کے مقابلے میں کہیں زیادہ لچکدار تھی۔
جب ماہرین نے اس انتہائی پتلی ہیرے کی جھلی کو موڑا تو اس میں مستقل اور قابل پیمائش برقی سگنلز پیدا ہوئے۔ اس مشاہدے نے ظاہر کیا کہ ہیرے کی ساخت کو مخصوص حالات میں تبدیل کرکے اس میں پیزو الیکٹرک اثر پیدا کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس دریافت کے عملی استعمال کے لیے مزید تحقیق درکار ہے، تاہم مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو انتہائی حساس سینسرز، چھوٹے الیکٹرانک آلات اور ایسے طبی امپلانٹس میں استعمال کیا جاسکتا ہے جو اپنے ماحول کی حرکت سے توانائی حاصل کریں۔ یہ تحقیق اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ کسی مادے کی خصوصیات اس کے حجم اور ساخت میں تبدیلی کے ساتھ حیران کن طور پر بدل سکتی ہیں۔