مالی سال 2026 تک 164 ملین براڈ بینڈ کنکشنز، مگر انٹرنیٹ کی رفتار میں پاکستان 143 ویں نمبر پر کیوں؟

مالی سال 2026 تک 164 ملین براڈ بینڈ کنکشنز، مگر انٹرنیٹ کی رفتار میں پاکستان 143 ویں نمبر پر کیوں؟

پاکستان میں انٹرنیٹ کی رسائی میں اضافے کے باوجود کوریج کا معیار انتہائی ناقص ہے، جس کے متبادل کے طور پر اب سیٹلائٹ براڈ بینڈ پر بھرپور توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

مالی سال 2026 تک 164 ملین صارفین کے باوجود سست رفتار اور فائبر کے ہوشربا اخراجات نے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی ضوابط اور قیمتیں اس نئی ٹیکنالوجی کو ملک میں کس حد تک پنپنے کا موقع دیتی ہیں۔

انٹرنیٹ کی موجودہ صورتحال اور اعداد و شمار

پاکستان میں رابطے کے موجودہ منظر نامے کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال ملی جلی نظر آتی ہے۔ مالی سال 2026 کے اختتام تک ملک میں براڈ بینڈ کنکشنز کی تعداد لگ بھگ 164 ملین تک پہنچ چکی ہے، جن میں سے اکثریت یعنی 159.5 ملین صرف موبائل ڈیٹا استعمال کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسٹارلنک اب یو اے ای میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس فراہم کرے گا

فکسڈ لائن یعنی تار والے کنکشنز کی تعداد محض 4.4 ملین ہے، جو کل گھرانوں کا تقریباً دسواں حصہ بنتا ہے۔ اس محدود دائرے میں سارا زور فائبر پر دیا جا رہا ہے، جس کے کنکشنز مالی سال 2019 میں 1 لاکھ سے بڑھ کر جون تک 2.88 ملین ہو چکے ہیں۔ تاہم، یہ رفتار متاثر کن ہونے کے باوجود حقیقت انتہائی تلخ ہے کہ ملک کے 8 فیصد سے بھی کم گھرانوں تک فائبر کی سہولت موجود ہے۔

فائبر انٹرنیٹ کی معاشی مشکلات

فائبر کے پھیلاؤ میں سب سے بڑی رکاوٹ معاشیات ہے۔ ایک گھر تک فائبر کیبل بچھانے کا خرچ 60,000 سے 120,000 روپے کے درمیان آتا ہے۔

اس کا بنیادی ڈھانچہ، جس میں کیبلز اور آپٹیکل نیٹ ورک ٹرمینلز شامل ہیں، تقریباً مکمل طور پر درآمد کیا جاتا ہے جس پر 70 فیصد تک ٹیرف عائد ہوتا ہے۔

صارف اس اخراجات کا محض ایک معمولی حصہ، تقریباً 10,000 سے 15,000 روپے، ادا کرتا ہے۔ باقی ماندہ اخراجات انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی (آئی ایس پی) کو اٹھانے پڑتے ہیں، جس کی وصولی میں 8 سے 10 سال لگ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سہولت صرف ان گنجان آباد شہری علاقوں تک محدود ہے جہاں لوگوں کی آمدنی زیادہ ہے۔

سیٹلائٹ براڈ بینڈ، حدود اور بہترین استعمال

اگرچہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لیکن اسے 2 بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اول، سگنل کے طویل فاصلہ طے کرنے کی وجہ سے یہ تار والے کنکشنز کی نسبت سست ہے (اگرچہ پاکستان میں فائبر کی ناقص رفتار کے باعث سیٹلائٹ اس سے بہتر ثابت ہو سکتا ہے)۔ دوم، زیادہ تر مارکیٹوں میں اس کی قیمت اب بھی فکسڈ لائن سے کہیں زیادہ ہے۔

تاہم یہ ٹیکنالوجی ‘انٹرنیٹ کے صحراؤں’ جیسے بلوچستان، بالائی گلگت بلتستان اور کم آبادی والے اضلاع کے لیے بہترین آپشن ہے۔

اس کے علاوہ دور دراز کے دفاتر، شہری علاقوں میں بیک اپ کنکشنز چاہنے والے صارفین، اور موبائل ٹاورز کی بیک ہال سروس کے لیے یہ سود مند ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے تقریباً 60,000 سیلولر سائٹس میں سے 18 فیصد سے بھی کم فائبر سے منسلک ہیں، اور 2032 تک اس ہدف کو بمشکل 35 فیصد تک لے جانے کا ارادہ ہے۔

عالمی تجربات اور مارکیٹ کا ردعمل

عالمی سطح پر نچلے مدار کے سیٹلائٹ (لیو) کے تجربات مختلف رہے ہیں۔ نائجیریا میں ‘سٹارلنک’ نے شاندار کامیابی حاصل کی اور مارچ 2026 تک 92,000 صارفین بنا لیے، یہاں تک کہ طلب گنجائش سے بڑھنے پر مزید بکنگ روکنا پڑی۔

مزید پڑھیں:انٹرنیٹ پر انسان کم، اے آئی زیادہ؟ نئی تحقیق نے چونکا دیا

اس کے برعکس بنگلہ دیش میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے لیے سرخ قالین بچھانے کے باوجود 9 ماہ میں محض 3,990 صارفین ہی مل سکے، جبکہ وہاں فکسڈ براڈ بینڈ کے صارفین کی تعداد 14.5 ملین ہے۔ عالمی رجحانات بتاتے ہیں کہ غریب اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں سیٹلائٹ اور فائبر ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر کام کرتے ہیں۔

روایتی کمپنیوں پر اثرات

پاکستان میں فکسڈ لائن کی اوسط رفتار محض 18.21 ایم بی پی ایس ہے، جو اسے 149 ممالک کی فہرست میں 143 ویں نمبر پر دھکیلتی ہے، جبکہ عالمی اوسط 125.59 ایم بی پی ایس ہے۔

ملک میں محض 4.7 فیصد کنکشنز 30 ایم بی پی ایس سے زیادہ اور بمشکل 0.5 فیصد (تقریباً 215,000 صارفین) 100 ایم بی پی ایس سے زیادہ رفتار استعمال کرتے ہیں۔

ایسے میں سیٹلائٹ کا اصل خطرہ عام موبائل آپریٹرز کو نہیں بلکہ ‘وی سیٹ’ اور ‘جیو اسٹیشنری’ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں جیسے ‘پی ٹی سی ایل سکائی لنکس’ اور ‘سپرنٹس’ کو ہے۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کی دستیابی شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ایک بڑے فرق کا شکار رہی ہے۔ جہاں بڑے شہروں میں کنکشنز موجود ہیں، وہیں شہر کے مضافات، بلوچستان، تھر کے صحراؤں اور گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں موبائل سگنلز تک غائب ہو جاتے ہیں۔

دہائیوں سے ٹیلی کام آپریٹرز اس ناقص کوریج کا ملبہ مختلف بنیادی خامیوں پر ڈالتے آئے ہیں۔ دریں اثنا، عالمی سطح پر کھرب پتی سرمایہ کاروں کی جانب سے سیٹلائٹ انٹرنیٹ میں کی جانے والی بھاری سرمایہ کاری نے دنیا بھر میں مواصلاتی نظام کا نقشہ بدلنا شروع کر دیا ہے، جو پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک نیا آپشن بن کر ابھرا ہے۔

Related Articles