آزاد کشمیر میں 3 ماہ بعد انٹرنیٹ سروسز کی مشروط بحالی کا نوٹیفکیشن جاری، راولاکوٹ اور سدھنوتی بدستور محروم

آزاد کشمیر میں 3 ماہ بعد انٹرنیٹ سروسز کی مشروط بحالی کا نوٹیفکیشن جاری، راولاکوٹ اور سدھنوتی بدستور محروم

آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کے اعلان کے بعد محکمہ داخلہ نے ریاست میں تقریباً 3 ماہ سے معطل انٹرنیٹ سروسز کی مشروط اور مرحلہ وار بحالی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

31 اگست 2026 سے نافذ العمل اس فیصلے کے تحت ریاست کے بعض اضلاع میں مکمل، جبکہ کئی علاقوں میں صرف تعلیمی اداروں اور بینکوں کے لیے کڑی شرائط کے ساتھ انٹرنیٹ بحال کیا جا رہا ہے۔

نوٹیفکیشن کا اجرا اور مظفر آباد ڈویژن میں بحالی

آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کے محکمہ داخلہ کی جانب سے 30 اگست 2026 کو وزارت داخلہ حکومتِ پاکستان کے نام جاری کردہ باضابطہ مراسلے کے مطابق، آزاد کشمیر میں ‘ڈی ایس ایل’، ‘تھری جی’ اور ‘فور جی’ انٹرنیٹ سروسز کی بحالی کا عمل پیر 31 اگست سے شروع ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر، راولاکوٹ احتجاج کی جعلی ویڈیوز پھیلانے والا ’پی ٹی آئی‘ کا نیٹ ورک پکڑا گیا، رینجرز کی فائرنگ جعلی نکلی

نوٹیفکیشن کے مندرجات کے مطابق، مظفر آباد ڈویژن کے ضلع نیلم (اپر اور لوئر نیلم) میں براڈ بینڈ اور موبائل ڈیٹا سروسز مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہیں۔

تاہم ضلع مظفر آباد اور جہلم ویلی میں انٹرنیٹ کی سہولت صرف تعلیمی اداروں (اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں) اور بینکوں تک محدود رکھی گئی ہے، البتہ جہلم ویلی کی حدود میں آنے والی لیپہ ویلی میں ڈی ایس ایل اور موبائل ڈیٹا سروسز مکمل طور پر فعال ہوں گی۔

پونچھ اور میرپور ڈویژن کی تفصیلی صورتحال

حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق پونچھ ڈویژن کے اضلاع راولاکوٹ اور سدھنوتی میں انٹرنیٹ تاحال مکمل طور پر معطل رہے گا۔

ضلع باغ میں صرف باغ سٹی اور دھیرکوٹ سٹی کی شہری حدود میں تعلیمی اداروں اور بینکوں کو ڈی ایس ایل استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ حویلی کہوٹہ میں تمام انٹرنیٹ سروسز کو بلا رکاوٹ بحال کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب، میرپور ڈویژن کے اضلاع بھمبر اور میرپور میں پورے ضلع کے لیے ڈی ایس ایل سروس بحال کر دی گئی ہے۔ ضلع کوٹلی میں صورتحال قدرے مختلف ہے، جہاں سینسہ، سرساوہ، بلوچ اور تتہ پانی کے علاقوں کو چھوڑ کر باقی ماندہ ضلع میں صرف تعلیمی اداروں اور بینکوں کو ‘ڈی ایس ایل’ کی محدود فراہمی کی جائے گی۔

سخت شرائط اور بیانِ حلفی کی لازمی فراہمی

محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اس مراسلے میں انٹرنیٹ کی فراہمی کو ایک انتہائی کڑی شرط کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

وہ تمام تعلیمی ادارے اور بینک برانچز جنہیں ‘وائٹ لسٹ’ کر کے کنکشنز فراہم کیے جا رہے ہیں، ان کے سربراہان پابند ہوں گے کہ وہ متعلقہ سیکرٹریز اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے چیف منیجر کو باقاعدہ ایک بیان حلفی جمع کروائیں۔

اس حلف نامے میں اس بات کی تحریری ضمانت دی جائے گی کہ یہ انٹرنیٹ کنکشنز کسی بھی ایسی سرگرمی، بیانیے یا عمل کے لیے استعمال نہیں ہوں گے جو امن و امان، ریاستی مفادات یا قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو۔

واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں امن و امان کی مخصوص صورتحال اور خطے میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر گزشتہ تقریباً 3 ماہ سے مظفر آباد، جہلم ویلی، نیلم اور دیگر اضلاع میں انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر بند تھیں۔

اس طویل ترین معطلی کے باعث نہ صرف طلباء کا قیمتی تعلیمی حرج ہو رہا تھا بلکہ فری لانسرز، بینکنگ سیکٹر، کاروباری برادری اور بیرونِ ملک رابطے کے لیے ترستے عام شہریوں کو بھی شدید ذہنی اور معاشی اذیت کا سامنا تھا۔

مزید پڑھیں:انٹرنیٹ پیکیجز مہنگے ہونے کا خدشہ، صارفین کیلئے بری خبر آگئی

حال ہی میں منصب سنبھالنے والے وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی نے عوامی غیض و غضب اور مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے انٹرنیٹ کی فوری بحالی کا وعدہ کیا تھا، جسے اب محدود سطح پر عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔

انٹرنیٹ کی یہ جزوی اور مشروط بحالی جہاں ایک طرف عوامی بے چینی کو کسی حد تک کم کرنے کے حوالے سے ایک خوش آئند قدم ہے، وہیں دوسری جانب اس کا طریقہ کار ریاستی اداروں کی سیکیورٹی پالیسی کے انتہائی محتاط رویے کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔

تعلیمی اداروں اور بینکوں سے تحریری بیان حلفی مانگنے کی شرط یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکومت ڈیجیٹل سپیس کے استعمال اور ریاست مخالف بیانیے کی تشہیر کے حوالے سے تاحال شدید دباؤ اور تذبذب کا شکار ہے۔

راولاکوٹ اور سدھنوتی کے لاکھوں شہریوں کا انٹرنیٹ سروسز سے بدستور محروم رہنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ریاستی سطح پر بعض علاقوں کو اب بھی سیکیورٹی رسک تصور کیا جا رہا ہے۔

ایک ایسے جدید دور میں جب معیشت، روزگار اور تعلیم کا مکمل انحصار ڈیجیٹل رابطوں پر ہے، شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنا دوررس نتائج کے اعتبار سے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ سیکیورٹی خدشات کو مروجہ قانونی اور تکنیکی طریقوں سے ہینڈل کرے اور جلد از جلد پورے آزاد کشمیر میں عام شہریوں کے لیے بلا تعطل انٹرنیٹ سروسز بحال کرے، تاکہ خطے کی معاشی ترقی کا رکا ہوا پہیہ دوبارہ پوری رفتار سے گھوم سکے۔

Related Articles