عالمی ثالثی عدالت کا بھارت کو ہائیڈرو پراجیکٹس پر کام روکنے،سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا حکم

عالمی ثالثی عدالت کا بھارت کو ہائیڈرو پراجیکٹس پر کام روکنے،سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا حکم

دی ہیگ میں قائم  عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کو پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری کرنے کا حکم دیتے ہوئے  ہائیڈرو پاور منصوبے پر کام معطل کرنے کی ہدایت کردی۔

 عالمی ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے یا ختم کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا، لہٰذا 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پانے والا معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔

بھارت کا مؤقف مسترد

عدالت نے بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل کرنے یا ختم کرنے کیلئے پیش کیے گئے ممکنہ جواز کا جائزہ لیا اور متفقہ فیصلے میں قرار دیا کہ ان میں سے کوئی بھی بنیاد سندھ طاس معاہدے کی معطلی یا خاتمے کا جواز فراہم نہیں کرتی۔

بھارت پر ذمہ داریاں برقرار

عدالت نے واضح کیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند ہے، جن میں مغربی دریاؤں پر بنائے جانے والے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق معاہدے کی شرائط بھی شامل ہیں۔

ریتلے منصوبے پر حکم

عدالت نے پاکستان کی جانب سے 4 مارچ کو دائر کی گئی درخواست پر عبوری اقدامات سے متعلق حکم بھی جاری کیا، جس کا تعلق مقبوضہ کشمیر میں ریتلے پن بجلی منصوبے سے ہے۔

پانی کا تنازع

پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا معاملہ طویل عرصے سے تنازع کا باعث رہا ہے ،بھارت نے گزشتہ برس اپریل میں یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو  التوا میں رکھنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

پاکستان کا سخت ردعمل

بھارت کے اقدام پر پاکستان نے واضح کیا تھا کہ پانی کے حصے کو روکنے یا معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، جبکہ پاکستان نے اپنے پانی کے حصے کو روکنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام  قرار دیا تھا۔

مغربی دریاؤں پر پاکستان کا حق

سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے راوی، بیاس اور ستلج مشرقی دریا قرار دیے گئے ہیں، جن پر بھارت کو بنیادی طور پر حقوق حاصل ہیں، جبکہ دریائے سندھ، جہلم اور چناب سمیت مغربی دریا بنیادی طور پر پاکستان کے حصے میں آتے ہیں۔

پن بجلی منصوبوں کا معاملہ

ثالثی عدالت کی کارروائی میں سندھ طاس معاہدے کی عمومی تشریح کے علاوہ بھارت کے کشن گنگا اور ریتلے پن بجلی منصوبوں سے متعلق معاملات بھی زیر غور آئے،پاکستان نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ مغربی دریاؤں اور ان کے معاون دریاؤں پر بھارت کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے رن آف دی ریور پن بجلی منصوبوں کے بعض ڈیزائن اجزا سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا جائے۔

ورلڈ بینک کا غیرجانبدار ماہر

عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی نوٹ کیا کہ کشن گنگا اور ریتلے پن بجلی منصوبے ورلڈ بینک کی جانب سے مقرر کردہ غیرجانبدار ماہر کے سامنے بھی کارروائی کا حصہ ہیں،غیرجانبدار ماہر سے توقع ہے کہ وہ جولائی 2027 میں حتمی فیصلہ جاری کرے گا کہ آیا مذکورہ منصوبے سندھ طاس معاہدے کی شرائط کے مطابق ہیں یا نہیں۔

معاہدے کی اہمیت

سندھ طاس معاہدہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے ساتھ ساتھ پانی سے متعلق معلومات کے تبادلے اور تنازعات کے حل کیلئے طریقہ کار بھی وضع کیا گیا تھا،عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے میں سندھ طاس معاہدے کے بدستور نافذ العمل ہونے کی توثیق پاکستان کے مؤقف کیلئے بڑی سفارتی کامیابی اور ایک اہم پیش رفت  ہے۔

editor

Related Articles