لارڈز ٹیسٹ میں شکست کا ذمہ دار کون؟ بابراعظم کا ردعمل سامنے آگیا

لارڈز ٹیسٹ میں شکست کا ذمہ دار کون؟ بابراعظم کا ردعمل سامنے آگیا

انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں 194 رنز کی عبرتناک شکست اور سیریز ہارنے کے بعد قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی بلے بازوں کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔

کپتان کے مطابق میچ میں بلے بازوں کے درمیان پارٹنر شپ نہ بننا شکست کی سب سے بڑی وجہ بنی، تاہم انہوں نے سعود شکیل اور محمد عباس کی انفرادی کارکردگی کو شاندار قرار دیا۔

اتوار کو لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو 194 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے دی۔

اس جیت کے ساتھ ہی میزبان ٹیم نے 3 میچوں کی سیریز میں 0-2 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کر لی ہے۔ واضح رہے کہ یہ 16 سالوں میں پاکستان کی لارڈز کے تاریخی گراؤنڈ پر پہلی شکست ہے، جس نے شائقینِ کرکٹ کو شدید مایوس کیا ہے۔

بلے بازوں کی مایوس کن کارکردگی اور سعود شکیل کی مزاحمت

میچ کی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا اور انگلینڈ کی پوری ٹیم کو 291 رنز پر پویلین بھیج دیا۔

یہ بھی پڑھیں:لارڈز کی شکست کے بعد سرفراز احمد کی کرسی خطرے میں؟ بڑی تبدیلی متوقع

لیکن اس کے جواب میں پاکستانی بیٹنگ لائن بری طرح ناکام رہی اور پہلی اننگز میں محض 110 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ دوسری اننگز میں جب انگلینڈ نے ایک طویل برتری حاصل کر کے پاکستان کو جیت کے لیے 389 رنز کا ہمالیائی ہدف دیا، تو پوری ٹیم صرف 50.5 اوورز میں 194 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

اس دوران صرف سعود شکیل نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور 122 گیندوں پر 97 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس میں 13 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ دوسری جانب انگلینڈ کے اولی رابنسن نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے 4 اہم وکٹیں حاصل کیں۔

کپتان بابر اعظم کا ردعمل اور اعتراف

میچ کے اختتام پر گفتگو کرتے ہوئے قومی کپتان بابر اعظم نے کھلے دل سے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم کی بلے بازی معیار کے مطابق نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے ٹاس جیت کر کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، لیکن ہماری بیٹنگ لائن نے مایوس کیا’۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘دوسری اننگز میں محمد عباس نے شاندار باؤلنگ کی لیکن بلے باز ایک بار پھر ناکام رہے، تاہم سعود شکیل نے جس عزم اور کلاس کا مظاہرہ کیا وہ واقعی قابلِ ستائش ہے’۔

بابر اعظم نے شراکت داریاں قائم نہ ہونے کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے منصوبوں پر عمل کرنے کی کوشش کی لیکن بدقسمتی سے کوئی بڑی پارٹنرشپ نہیں بن سکی، لارڈز میں 5 وکٹیں لینا محمد عباس کے لیے ایک یادگار لمحہ ہے اور ہم اپنی طرف سے باؤلنگ اور بیٹنگ دونوں میں بہترین کھیل پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز کے میدان پر کھیلا جانے والا یہ ٹیسٹ میچ اس لیے بھی اہم تھا کیونکہ قومی ٹیم کو اس تاریخی گراؤنڈ پر طویل عرصے سے ناقابلِ شکست رہنے کا اعزاز حاصل تھا۔

آخری بار پاکستان کو یہاں 16 برس قبل شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حالیہ سیریز میں پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ لائن مسلسل مشکلات کا شکار رہی ہے، جس کا خمیازہ انہیں بالآخر سیریز گنوانے کی صورت میں بھگتنا پڑا ہے۔

مزید پڑھیں:لارڈز ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد پی سی بی کا بڑا فیصلہ، 6 کھلاڑی طلب

تیز گیند بازوں نے اپنا کردار بخوبی نبھایا، جیسا کہ محمد عباس نے اس میچ میں 5 وکٹیں حاصل کیں اور لارڈز کے آنرز بورڈ پر اپنا نام لکھوایا، لیکن بلے بازوں کی مسلسل ناکامی نے باؤلرز کی تمام تر محنت پر پانی پھیر دیا۔

اس میچ کے نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستانی ٹیم کا اصل مسئلہ کنڈیشنز نہیں بلکہ تکنیک کی خامی اور دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔

ٹاس جیت کر انگلینڈ کو 291 رنز پر آؤٹ کرنا بلاشبہ ایک بہترین آغاز تھا، لیکن پہلی اننگز میں محض 110 رنز پر ڈھیر ہونا کسی بھی بین الاقوامی ٹیسٹ ٹیم کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ جب بلے باز پہلی اننگز میں ہی اتنی بڑی برتری دے دیں، تو میچ میں واپسی تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔

بابر اعظم کا پارٹنر شپ کے نہ بننے کا شکوہ اپنی جگہ درست ہے، لیکن ایک کپتان کی حیثیت سے انہیں اور ٹیم مینجمنٹ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ غیر ملکی پچز پر بلے باز کس طرح اپنا دفاع مضبوط کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لارڈز ٹیسٹ: پاکستان کی بیٹنگ پھر ناکام، انگلینڈ کیخلاف 110 رنز پر آل آؤٹ

سعود شکیل کی 97 رنز کی اننگز نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر کریز پر ٹھہرنے کا پختہ ارادہ ہو تو رنز بنانا قطعی ناممکن نہیں۔ اب پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم مینجمنٹ کو محض ‘بہترین کوشش کرنے’ کے رسمی بیانات سے آگے بڑھ کر بلے بازوں کی تکنیکی خامیوں کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مستقبل میں ایسی شرمناک شکستوں سے بچا جا سکے۔

Related Articles