وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں مصنوعی ذہانت، اے آئی، سے چلنے والے جدید ملٹی ڈیزیز اسکینر متعارف کرانے کی اصولی منظوری دے دی۔
اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد بیماریوں کی بروقت تشخیص اور اسکریننگ کے عمل کو تیز اور مؤثر بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کے اعلیٰ حکام کی جانب سے اس جدید نظام کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ کے مطابق اے آئی سے چلنے والا ملٹی ڈیزیز اسکریننگ سلوشن بغیر کنٹراسٹ سی ٹی اسکین کے ذریعے صرف 2 منٹ میں 10 تک مختلف بیماریوں کی نشاندہی میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔ یہ نظام بیماریوں کی اسکریننگ، تشخیص، علاج اور مریضوں کی صحت کی نگرانی میں ڈاکٹروں کی معاونت کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی خاص طور پر 5 خطرناک اقسام کے کینسر کی ابتدائی تشخیص میں مدد دے سکتی ہے، جن میں معدے، لبلبے، غذائی نالی، بڑی آنت اور جگر کا کینسر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ نظام لبلبے اور جگر کے کینسر کی تشخیص میں معاونت، دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریوں کے خطرات کا جائزہ لینے اور ایکیوٹ آورٹک سنڈروم کی اسکریننگ میں بھی مدد فراہم کرسکتا ہے۔
اے آئی پر مبنی یہ سسٹم جسم میں چربی اور پٹھوں کی صحت کا جائزہ لینے، ہڈیوں کی کمزوری اور آسٹیوپوروسس کے خطرے کا اندازہ لگانے کے ساتھ ساتھ فیٹی لیور کی نشاندہی میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ ٹیکنالوجی روایتی تشخیصی طریقوں کا متبادل نہیں ہوگی بلکہ ڈاکٹروں کو مریضوں کی زیادہ تیز اور جامع جانچ کے لیے ایک اضافی سہولت فراہم کرے گی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے اس ٹیکنالوجی میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ صحت پنجاب کو صوبے میں اس نظام کے آغاز کے لیے پائلٹ پراجیکٹ تیار کرنے کی ہدایت کردی۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس جدید اے آئی نظام کو پنجاب کے کس شہر یا کس اسپتال میں سب سے پہلے متعارف کرایا جائے گا۔ منصوبے پر پیش رفت کے ساتھ مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔