نیدرلینڈز میں ایسا فیسٹیول جس میں سرخ سر ہی نظر آتے ہیں، اس میلے کی حقیقت کیا ہے؟

نیدرلینڈز میں ایسا فیسٹیول جس میں سرخ سر ہی نظر آتے ہیں، اس میلے کی حقیقت کیا ہے؟

نیدرلینڈز کے تاریخی شہر تلبرگ میں دنیا میں سرخ بالوں والے افراد کے سب سے بڑے سالانہ میلے ’ریڈ ہیڈ ڈیز‘ کا شاندار انعقاد کیا گیا ہے۔

28 سے 30 اگست تک جاری رہنے والے اس فیسٹیول میں دنیا بھر سے سرخ بالوں والے افراد نے اپنی منفرد شناخت، فخر اور باہمی رابطے کے جذبے کو منانے کے لیے شرکت کی۔

نیدرلینڈز کے شہر تلبرگ میں منعقد ہونے والا سالانہ ’ریڈ ہیڈ ڈیز‘ فیسٹیول 28 اگست سے شروع ہو کر 30 اگست تک جاری رہا۔اس 3 روزہ ایونٹ نے شہر کے ماحول کو ایک زبردست بین الاقوامی جشن میں تبدیل کر دیا۔

فیسٹیول کے آخری دن، 30 اگست کو، دنیا کے مختلف ثقافتی پس منظر سے آئے ہوئے شرکاء نے مختلف تفریحی پروگراموں، موسیقی، رقص  اور اجتماعی فوٹو شوٹس میں بھرپور حصہ لیا۔

اس موقع پر لوگوں نے نہ صرف اپنے منفرد انداز کا مظاہرہ کیا بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ اپنے تجربات اور کہانیوں کا تبادلہ بھی کیا۔

تقریب کا بنیادی مقصد اور مختلف پروگرامز

منتظمین کے مطابق اس میلے کا مقصد محض تفریح یا ہلہ گلہ کرنا نہیں، بلکہ قدرتی طور پر سرخ یا تانبے جیسے رنگ کے بال رکھنے والے افراد کے درمیان ایک دوسرے کو قبول کرنے، حوصلہ افزائی اور اتحاد و فخر کے جذبے کو فروغ دینا ہے۔

فیسٹیول کے فریم ورک میں بچوں سے لے کر بڑوں تک کے لیے خصوصی سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس میں تعلیمی و فکری لیکچرز، آرٹ ورکشاپس اور کھیلوں کے مقابلے شامل تھے۔

فیسٹیول کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ تھی کہ اس میں سرخ، تانبے اور اس سے ملتے جلتے تمام شیڈز کے حامل افراد کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان، دوست احباب اور وہ لوگ بھی خوش دلی سے شریک ہوئے جن کے بال قدرتی طور پر سرخ نہیں ہیں۔

اس عالمی اور غیر معمولی فیسٹیول کا آغاز محض ایک اتفاق سے ہوا تھا۔ سن 2005 میں نیدرلینڈز کے ایک ڈچ مصور کو اپنی پینٹنگز کے لیے سرخ بالوں والے 15 ماڈلز کی ضرورت تھی، جس کے لیے اس نے مقامی اخبار میں ایک اشتہار دیا۔

تاہم توقع سے کہیں زیادہ ردعمل سامنے آیا اور سو سے زیادہ افراد نے رابطہ کر لیا۔ اس منفرد اور حیران کن ردعمل نے ایک ایسی بنیاد رکھی کہ ہر سال سرخ بالوں والے افراد ایک جگہ جمع ہونے لگے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک باقاعدہ بین الاقوامی اور تاریخی فیسٹیول کی شکل اختیار کر گیا۔

یہ بھی پڑھیں:نیدر لینڈز کیساتھ میچ کے دوران ذہن میں کیا تھا؟، قومی ٹیم کے فاتح آل راؤنڈر فہیم اشرف کا بیان سامنے آگیا

دنیا بھر کی آبادی میں قدرتی طور پر سرخ بال رکھنے والے افراد کا تناسب محض 1 سے 2 فیصد کے قریب ہے، جس کی وجہ سے یہ افراد کثرت سے تنہائی، انفرادیت یا سماجی تعصب کا شکار بھی ہوتے رہے ہیں۔

ایسے ماحول میں ‘ریڈ ہیڈ ڈیز’ جیسے عالمی پلیٹ فارم کی اہمیت صرف ایک میلے تک محدود نہیں رہتی۔ یہ ایونٹ متنوع ثقافتوں کے درمیان قبولیت اور ’باڈی پوزیٹوٹی‘ کے تصور کو تقویت دیتا ہے۔

2005 سے شروع ہونے والے اس سفر کی کامیابی یہ ثابت کرتی ہے کہ انسان بنیادی طور پر اپنی شناخت کی توثیق اور تعلق کا جویا ہوتا ہے۔

نیدرلینڈز کے اس اقدام نے نہ صرف دنیا بھر کے ریڈ ہیڈز کو ایک اجتماعی پلیٹ فارم فراہم کیا ہے بلکہ یہ تنوع کا احترام کرنے اور ہر نوع کے قدرتی حسن کا جشن منانے کی ایک باوقار عالمی مثال بھی بن چکا ہے۔

Related Articles