اپنے گھر کا خواب دیکھنے والے پنجاب کے ہزاروں خاندانوں کے لیے بڑی خبر سامنے آگئی جہاں اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت بلاسود قرضوں کی فراہمی کا ہدف رواں مالی سال میں دگنا کردیا گیا ہے۔
اس پروگرام کے تحت اب تک 243 ارب روپے سے زائد کے بلاسود قرضے فراہم کیے جاچکے ہیں، جبکہ منظور شدہ قرضوں کی تعداد بھی 2 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔
صوبائی وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین کی زیر صدارت بلاسود قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا ، اجلاس میں ڈی جی پھاٹا سکندر ذیشان، اربن یونٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمر مسعود، بینک آف پنجاب اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس میں حکام نے بلاسود قرضوں کی فراہمی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت منظور شدہ قرضوں کی تعداد 2 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک 1 لاکھ 14 ہزار 237 گھر مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ 45 ہزار 254 گھروں پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر بڑی تعداد میں خاندان اپنی چھت کے خواب کو عملی شکل دینے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
243 ارب روپے سے زائد کے بلاسود قرضے
اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت کم مدت میں 243 ارب روپے سے زائد کے بلاسود قرضے فراہم کیے گئے ہیں ، حکومت کا کہنا ہے کہ ریکارڈ تعداد میں درخواستوں کے باعث رواں مالی سال کے لیے قرضوں کی فراہمی کا ہدف دوگنا کردیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ان خاندانوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے جو محدود آمدن کے باعث بینکوں سے عام قرض لینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے، بلاسود قرض کی سہولت سے انہیں گھر کی تعمیر شروع کرنے میں مالی مدد مل سکتی ہے۔
تاہم قرض کی منظوری کے بعد رقم کے بروقت اجرا کا معاملہ بھی اہم ہے ، اسی لیے صوبائی وزیر ہاؤسنگ نے زیر التوا ادائیگیوں کے فوری اجرا کی ہدایت کی ہے۔
شہریوں کی شکایات پر فوری ایکشن کا حکم
اجلاس میں بلال یاسین نے واضح کیا کہ قرضوں کی فراہمی میں غیر ضروری تاخیر کی شکایات پر فوری ایکشن لیا جائے گا ، متعلقہ حکام کو شہریوں کی شکایات کے ازالے کا عمل مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
اس سلسلے میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مؤثر رابطہ یقینی بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ درخواست گزاروں کو غیر ضروری انتظار اور دفتری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
عام خاندانوں کے لیے کیا بدلے گا؟
گھر کی تعمیر صرف چار دیواری کھڑی کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک متوسط یا کم آمدنی والے خاندان کے لیے اپنی چھت کا مطلب کرائے کے مکان سے نجات، بچوں کے لیے محفوظ ماحول اور مستقبل کا ایک مستقل سہارا بھی ہے۔
بلاسود قرضوں کے ہدف میں دوگنا اضافہ ان خاندانوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے جو برسوں سے اپنی چھت کے منتظر ہیں، اب نظریں اس بات پر ہیں کہ نئے اہداف کے تحت کتنے مزید خاندانوں کو قرض ملتا ہے اور کتنی نئی چھتیں تعمیر ہوتی ہیں۔